ٹویٹر پر حکومت مخالف مہم اچانک تیز

تحریک انصاف کی مقبولیت اور حکومت بننے میں سوشل میڈیا کا اہم کردار تھا لیکن اچانک یہی میڈیا حکومت کے خلاف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

ٹویٹر پر دس ٹاپ ٹرینڈز میں سے سات تحریک انصاف کی مرکز اور پنجاب میں حکومتوں کے خلاف اور ایک کلفٹن کراچی میں صفاگی کی ناقص صورتحال پر ہے، اس ٹرینڈ میں بھی کچھ لوگ وفاقی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا نومبر دسمبر میں تبدیلی آنے والی ہے؟

اس وقت تک نواز ریجکٹ این آر او ٹاپ ٹرینڈ ہے۔اس میں اخبارات کے تراشے اور عمران خان کی تقاریر شیئر ہو رہی ہیں۔

ایک صارف نے نواز شریف کا گرفتاری دینے سے پہلے کا بیان بھی شیئر کیا ہے۔

ذیشان نامی ایک نوجوان نے نوازشریف کی ایئرپورٹ سے گرفتاری کی ویڈیو بھی شیئر کر دی۔

اس کے بعد سب سے زیادہ ٹویٹس کشمیر ول ناٹ سرینڈر اور کشمیر کیوں بیچا کے ہیش ٹیگ پر ہو رہے ہیں۔

تین ٹاپ ٹرینڈز پنجاب حکومت پر تنقید میں ہیں جن میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے اور پنجاب پولیس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

پنجاب پولیس کی حراست میں ملزموں کی مسلسل ہلاکتوں پر بزدارہٹاوپنجاب_بچاو ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرہا ہے۔

تحریک انصاف کے اپنے ووٹر اور حمایتی بھی

#TimeToReformPolice اور #Buzdar

کا ہیش ٹیگ شیئر کر رہے ہیں۔

جی آئی ڈی سی کے دوسو ارب روپے معاف کرنے کا ہنگامہ بھی تھما نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 200ارب کی کہانی

صحافی رؤف کلاسرا بھی طنز کرنے والوں میں شامل ہوئے ہیں تو جہانگیر ترین صفائیاں اور تردیدیں جاری کر رہے ہیں۔

اب تحریک انصاف کے حمایتی بھی میدان میں کودے ہیں اور رقوم معاف کرنے کی ’حقیقی‘ وجوہات بتا رہے ہیں۔ ساتھ ہی صحافیوں کو کم علمی کا طعنہ بھی دیا جا رہا ہے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: