2018ء میں جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی لیکن معیشت کی سست روی کی وجہ سے یہ شرح 2019ء میں 3 فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

2018 میں جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی لیکن

ملک کی معاشی صورتحال کچھ ماہ قبل خراب تھی لیکن اب بدترین ہے کیونکہ اہم اکنامک انڈیکیٹرز کے سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی معاشی صورتحال بہت ہی مایوس کن ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد کوئی بہتری ظاہر کرنے کی بجائے ملک کی معاشی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اور یہ اطلاعات بھی تھیں کہ سابق سیکریٹری خزانہ یونس ڈھاگا نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا تاہم ڈھاگا کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور حکومت نے ایک اور افسر کی بطور سیکریٹری خزانہ تقرری کردی۔

2018ء میں جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی لیکن معیشت کی سست روی کی وجہ سے یہ شرح 2019ء میں 3 فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات کے کی وجہ سے سیکریٹری خزانہ ہونے کے باوجود انہوں نے خود کو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے دور کر لیا اور مذاکرات کے آخری تین سیشنز میں شرکت نہیں کی۔

اگلے روز حکومت نے اعتراف کیا کہ معیشت کی بہتری کا سفر آسان نہیں کیونکہ ٹیکس کی رسیدوں میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ اس نے کہا کہ معاشی محاذ پر چیلنجز ہیں لیکن تنقید میں شفافیت کا عنصر ہونا چاہئے۔ قرضوں کے بوجھ میں 7.6 ہزار ارب اضافے کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ 

جب خراب ہوتی مالی صورتحال کے متعلق پوچھا گیا جس میں گزشتہ مالی سال کے دوران خسارہ جی ڈی پی کے 8.9 فیصد تک پہنچ گیا، حکومت کا کہنا تھا کہ جمع ہونے والے 3.8 ہزار ارب کے ٹیکس ریونیو میں سے قرضہ جات کی ادائیگی میں 2.1 ہزار ارب روپے نکل گئے اور اس کے بعد صوبوں کو اُن کا حصہ ادا کیا گیا، جس کے بعد حکومت کو دفاعی، ترقیاتی اور سرکاری اخراجات کیلئے قرض لینا پڑا۔ 

مالی سال 2018ء کے آخر تک کلاں اشاریے (میکرو انڈیکیٹرز) اور مالی سال 2019ء کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ایک سال میں معاشی صورتحال تیزی سے بگڑتی رہی۔ ذیل میں وہ اہم اشاریے پیش کیے جا رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی معیشت میں حالات کیسے بگڑے۔ 

معیشت سے متعلق اشاریے

2018ء میں جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی لیکن معیشت کی سست روی کی وجہ سے یہ شرح 2019ء میں 3 فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

جون 2019ء کے آخر تک مالی خسارہ بڑھ کر 3.4 ہزار ارب روپے ہو چکا ہے جبکہ 2018ء میں جب نون لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت یہ 2.2 کھرب روپے تھا۔ دیکھا جائے تو رقم کے لحاظ سے یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔ 

فیصدی لحاظ سے دیکھیں تو مالی خسارہ 8.9 فیصد ہو چکا ہے جبکہ 2018ء میں یہ 6.6 فیصد تھا۔ 8.9 فیصد مالی خسارہ گزشتہ 30 سال میں سب سے زیادہ ہے اور ویسے بھی دیکھیں تو پی ٹی آئی نے گزشتہ سال ستمبر میں خود اپنے لیے جو ہدف مقرر کیا تھا وہ 5.1 فیصد تھا۔ اپنے اہداف سے میلوں پیچھے رہ جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کی معاشی ٹیم کو حالات کی سوجھ بوجھ ہی نہیں۔ 

زبردست مالی خسارے کا لیے گئے قرضوں پر براہِ راست اثر پڑتا ہے اور ذیل میں قرضوں کے اعداد و شمار سے صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔

2018ء میں جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی لیکن معیشت کی سست روی کی وجہ سے یہ شرح 2019ء میں 3 فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔

جون 2018ء میں مجموعی قرضہ جات 30 ہزار روپے تھے جو اب بڑھ کر 40 ہزار ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ ایک سال میں قرضوں میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔ پاکستان کے 71 سال میں مجموعی قرضہ جات 30 ہزار ارب روپے تھے لیکن پی ٹی آئی حکومت کے صرف ایک سال میں ان میں ایک تہائی تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملتی اور صورتحال اخراجات او آمدنی کے حوالے سے بد انتظامی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو خدشہ ہے کہ پورا معاشی ڈھانچہ دھڑام سے نیچے آ گرے گا کیونکہ ہماری معیشت میں اتنا بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ 

2018ء میں ٹیکس سے ہونے والی آمدنی ریکارڈ سطح پر تھی اور یہ 3800 ا رب روپے تھی۔ 2019ء میں ٹیکس ریونیو میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ میں سے چار برسوں کے دوران ٹیکس سے ہونے والی آمدنی میں سالانہ 20 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ سب انتہائی کم کساد بازاری (انفلیشن) اور روپے کی قدر گرائے بغیر ہی ہوا ، یہ وہ دو پہلو ہیں جو از خود ٹیکس ریونیو میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ 

کہا جاتا ہے کہ آمدنی کا موجودہ ٹارگٹ (5550 ارب روپے) حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ گزشتہ سال کے اصل جمع ہونے والے اعداد و شمار کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔ 2018ء میں کساد بازاری(مہنگائی) انتہائی کم ترین سطح یعنی 3.9 فیصد پر تھی۔ 

موجودہ حکومت میں یہ شرح 10.3 فیصد ہے۔ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 2018ء کے وسط میں 6.50 فیصد تھا اور پی ٹی آئی حکومت میں یہ 13.25 فیصد ہے۔ نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے وقت اسٹاک مارکیٹ 42 ہزار 847 پوائنٹس پر تھا جبکہ اب یہ 30 ہزار کے قریب ہے۔

 نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے وقت غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 15.913 ارب ڈالرز تھے جن میں سے اسٹیٹ بینک کےذخائر 9.5 ارب ڈالرز تھے جبکہ اب یہ ذخائر 15.630 ارب ڈالرز ہیں جن میں سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر صرف 8.271 ارب ڈالرز ہیں۔

یہ سب کچھ دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے ایک سال میں حاصل کیے گئے 12 ارب ڈالرز کے باوجود ہے۔ صرف ایک چیز جو موجودہ حکومت کے دور میں گزشتہ ایک سال میں بہتر ہوئی وہ ہے جاری کھاتوں کا خسارہ۔ مالی سال 2018ء میں یہ خسارہ جی ڈی پی کا 6.3 فیصد یعنی 19.897 ارب ڈالرز تھا جو اب کم ہو کر 2019ء میں جی ڈی پی کا 4.8 فیصد یعنی 13.508 ارب ڈالرز ہو چکا ہے۔ 

یہ بہتر ہے کہ جاری کھاتوں کا خسارہ برآمدات بڑھا کر کم کیا جائے کیونکہ اس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم حکومت نے یہ کام برآمدات میں اضافہ کیے بغیر کیا ہے اور اس مقصد کیلئے درآمدات کو کم کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ درآمدات میں کمی کی وجہ سے ملکی معیشت نمایاں حد تک سست ہوگئی ہے۔ 2018ء میں جی ڈی پی 313 ارب ڈالرز تھی جبکہ اب 33 ارب ڈالرز کی کمی کے ساتھ جی ڈی پی 280 ارب ڈالرز کی سطح پر نیچے آگئی ہے جس کا مقصد صرف چار ارب ڈالرز کی درآمدات میں کمی لانا ہے۔ نتیجتاً جی ڈی پی زوال پذیر ہے جبکہ فی کس آمدنی 8 فیصد کم ہوگئی ہے۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کا شعبہ منفی رجحان کا شکار ہے اور پیداوار ایک سال کے دوران کم ہوگئی ہے۔ 

زرعی شعبہ بھی ایک فیصد کمی کے ساتھ زوال کا شکار ہے۔ کرنسی کی زبردست بے قدری کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 160 روپے تک گر گئی۔ نون لیگ میں ایک ڈالر 116 روپے تک کا تھا۔ کئی دہائیوں کے دوران یہ زبردست بے قدری ہے جس میں معیشت نمایاں حد تک زوال کا شکار ہے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 50 فیصد کمی آئی۔ نتیجتاً مہنگائی بڑھ گئی، عام پاکستانی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

صرف گزشتہ ایک سال میں 45 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق، جی ڈی پی میں افزائش کی شرح 2.4 فیصد رہے گی جبکہ مہنگائی کی شرح 13 سے 15 فیصد کے درمیان رہے گی۔ ڈسکائونٹ ریٹ میں مزید اضافے کا امکان ہے اور یہ 15 اور 16 فیصد تک رہے گا۔

نتیجہ یہ ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مزید 50 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے، یہ اُن 4.5 ملین لوگوں کے علاوہ ہے جو گزشتہ ایک سال میں متاثر ہوئے۔ افزائش کی زوال پذیری کے ساتھ مزید 15 لاکھ پاکستانی بیروزگار ہو سکتے ہیں۔ 

پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی دو سال میں خدشہ ہے کہ 30 لاکھ پاکستانی بیروزگار ہو جائیں گے جبکہ پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ پانچ سال میں ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دیں گے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: