مقبوضہ کشمیر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے پوسٹر آویزاں

مقبوضہ کشمیر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے پوسٹر آویزاں

مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجرل جنرل آصف غفور کی تصاویر کے ساتھ جذبہ آزادی سے بھرپور نعروں والے پوسٹرز آویزاں کر دیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصاویر کے پوسٹرز اور ہینڈ بلز مقبوضہ وادی میں آویزاں کیے گئے ہیں۔

پوسٹرز پر ’’پاکستان آخری گولی اور آخری سپاہی تک کشمیر کی لڑائی جاری رکھے گا‘‘ کی تحریر درج ہے۔

حریت کارکنوں نے پوسٹرز اور ہینڈ بلز کے ذریعے اس عزم کو دوبارہ دہرایا ہے کہ وادی کشمیر بھارتی فوج کے زیر تسلط نہیں رہ سکتی۔

کشمیر کے لوگ مل کر بھارت کو جنت نظیر وادی سے نکال دیں گے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 29 ویں روز بھی کرفیو اور پابندیاں برقرار ہیں، کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔

مقبوضہ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے،لیکن کرفیو اور پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی مزاحمت میں کمی نہ آئی۔

قابض انتظامیہ نے ساڑھے چار ہزار سے زائد زیر حراست کشمیریوں پر کالا قانون ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ لاگو کر دیا۔

دوسری جانب بھارتی اداروں کی جانب سے 35ہزار سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین کی جارہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ ماہ اگست کے دوران قابض بھارتی فوج نے بچے اور خاتون سمیت 16 کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ بھارتی فوج کے ہاتھوں تین سو سڑسٹھ کشمیری زخمی بھی ہوئے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: