شہد کی مکھیاں بارودی سرنگیں ڈھونڈیں گی

سونگھنے والے کتوں کا زمانہ ہوا پرانہ اب سونگھنے والی مکھیاں منشیات اور دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کریں گی۔

برطانوی ماہرین نے مکھیوں کو نئی ذمہ داریوں کے لیے تربیت دینا شروع کر دی ہے۔

شہد کی مکھیاں نئے رول کے لیے تیار کی جا رہی ہیں جو پانچ سے دس سال میں قیمتی جانیں بچایا کریں گی۔

شہد کی مکھیاں بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے ساتھ خطرناک مادوں جیسا کہ زرعی ادویات اور تابکاری کی نشاندہی بھی کر سکیں گی۔

نیٹو فنڈڈ پراجیکٹ پر برطانیہ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریو میں کام ہو رہا ہے۔ جہاں ریسرچرز نے مکھیوں کی مدد سے کئی کلومیٹر دور سے بارودی سرنگوں کی نشاندہی کر دی۔

پیولوین ایسوسی ایشن نامی تکنیک کے تحت مٹھاس اور دھماکہ خیز مواد کی بو کو مکس کر دیا جاتا ہے اور شہد کی مکھیوں کو تربیت دی جاتی ہے کہ وہ بارود کی بو کو پھلوں کے رس کی خوشبو سمجھیں۔

اس طرح تربیت یافتہ مکھی بم پر جا کر بیٹھتی ہے۔ ریسرچرز کے مًابق اس وقت مکھیاں سومیٹر کی دوری سے دھماکہ خیز مواد کی نشاندھی کر رہی ہیں لیکن اس کو کئی کلومیٹرز تک بڑھایا جائے گا۔

محققین کے مطابق جب تربیت دینے کے بعد انہیں کھلا چھوڑا جائے گا تو آہستہ آہستہ ان کی صلاحیت بڑھتی جائے گی۔

اس میں ابھی یہ مسئلہ بھی آرہا ہے کہ آپ کو مکھیوں کو بار بار تربیت دینا پڑتی ہے۔

سائنسدان یہ بھی مانتے ہیں کہ مکھیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے آپ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہو گا، صرف ایک ٹرائل کے دوران ریسرچر کو مکھی کے ڈنک برداشت کرنا پڑے تھے۔

x

Check Also

لالچی شخص نے والدین کی قبر سے ہڈیاں چُرا لیں

لالچی شخص نے والدین کی قبر سے ہڈیاں چُرا لیں

‘لالچ بری بلا ہے’ یہ تو ہم  بچپن سے سیکھتے اور سمجھتے آ رہے ہیں ...

%d bloggers like this: