13سال کا ماہر کیمیا دان

ڈینیئل لو کی عمر صرف تیرہ برس ہے لیکن ایک جانب تو وہ گیارہویں جماعت (گریڈ) کے طالب علم ہیں تو دوسری جانب وہ ٹولیڈو یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ محقق بھی ہیں۔ وہ اسکول میں اپنے سینئر اور جونیئر دوستوں سے کہتے ہیں کہ اگر انہیں کیمیا سے متعلق کوئی سوال پوچھنا ہے تو وہ اسے ای میل پر رابطہ کرسکتے ہیں، جس کا فوری جواب دیا جائے گا۔

یہ فطین لڑکا ٹولیڈو یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات اور ریڈیالوجی سیفٹی میں سائنسداں ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں 12 سال کی عمر تک کے بچوں کا داخلہ بھی منع ہے لیکن ڈینیئل یہاں آزادانہ تحقیق کررہے ہیں۔ اس لڑکے کی ذہانت کا اندازہ یوں لگائیے کہ 2017 میں مائیکل ینگ آرگینک کیمسٹری کے لیکچر کے وسط مدتی امتحان میں کئی بچے فیل ہوئے اور کامیاب ہونے والے بھی زیادہ سے زیادہ 50 نمبر لے سکے تاہم ڈینیئل نے 100 میں سے 99 نمبر لیے۔ اس کے علاوہ ڈینیئل وائٹ ہاؤس اسکالر شپ کی مد میں 10 ہزار ڈالر کی رقم بھی جیت چکے ہیں۔

ڈینیئل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ اس عمر سے ریسرچ پیپرز لکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں ںے ایک مقالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے انسانی ادویہ اور کیڑے مار دواؤں کو مزید کم خرچ، ماحول دوست اور بہتر بنانے کی تجاویز دی تھیں۔

ڈینیئل کے ساتھ کام کرنے والے تمام ساتھی ان کی ذہانت کے معترفت ہیں اور ان کے رویّے سے بہت خوش ہیں۔

x

Check Also

لالچی شخص نے والدین کی قبر سے ہڈیاں چُرا لیں

لالچی شخص نے والدین کی قبر سے ہڈیاں چُرا لیں

‘لالچ بری بلا ہے’ یہ تو ہم  بچپن سے سیکھتے اور سمجھتے آ رہے ہیں ...

%d bloggers like this: