گھی، تیل کی طلب میں نمایاں کمی، مینوفیکچررز پریشان

حکومت کی جانب سے خریدار اور مال فراہم کرنے والوں کے کاروبار کو رجسٹرڈ کروانے کے لیے قومی شناختی کارڈ کی شرط کے بعد کوکنگ آئل اور گھی کی طلب میں کمی کی وجہ سے مینوفیکچررز تشویش کا شکار ہیں کیونکہ زیادہ تر صارفین اب سستے متبادل کی تلاش میں ہیں۔

ایک کمپنی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ متعدد ڈسٹریبیوٹرز ٹیکس فائلرز نہیں ہیں جس کی وجہ سے یہ انڈسٹری مزید تنزلی کا شکار ہوگئی ہے جو لوگوں کی قوت خرید کی وجہ سے پہلے ہی تنزلی کا شکار تھی۔

اسی طرح ایسے دکاندار جو فائلرز نہیں ہیں، وہ اپنی دکانوں میں زیادہ سامان رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

تیل اور گھی کی صنعت کی موجودہ شکل کو دیکھتے ہوئے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے سابق چیئرمین عبدالمجید حاجی محمد کا کہنا تھا کہ جولائی اور اگست کے دوران ہی اس کی فروخت میں 30 سے 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پی وی ایم اے کے ایک اور سابق چیئرمین اور شیخ امجد رشید کا کہنا تھا کہ جولائی کے مہینے میں برانڈڈ بناسپتی گھی اور تیل کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ اگست میں مہینے میں یہ کمی 30 فیصد تک جاپہنچی۔

انہوں نئے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ برانڈڈ مصنوعات میں زیادہ کمی نہیں دیکھنے میں آئی جس کی بڑی وجہ ان کمپنیوں پر صارفین کا اعتماد ہے۔

شیخ امجد رشید نے بتایا کہ کراچی میں گھی کی پیداوار 30 فیصد کم ہوئی ہے جو تقریباً 70 ٹن یومیہ ہے۔

ایسے میں کسی بھی مینوفیکچرر کے پاس لاگت میں کمی کے سخت اقدامات کا سہارا لینے میں بھی اپنے آپ کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔

سابق چیئرمین پی وی ایم اے کا کہنا تھا کہ یہ بے روزگاری کی تلوار زیادہ تر یومیہ تنخوادار پر ہی گرتی ہے، تاہم ایسے میں مستقل ملازمین اور کانٹریکٹ پر کام کرنے والوں کو اس کا سامنا آخر میں کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح خیبرپختونخوا میں گھی اور تیل بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ جولائی اور اگست میں ان کی سیل میں 40 فیصد تک کی کمی آئی ہے جبکہ انہوں نے بھی اس کمی کے لیے قومی شناختی کارڈ والی شرائط کی جانب اشارہ کیا۔

x

Check Also

ٹیلی تھون کے فنڈز کا غلط استعمال، عمران خان کیخلاف کرپشن کا ایک اور کیس تیار

ٹیلی تھون کے فنڈز کا غلط استعمال، عمران خان کیخلاف کرپشن کا ایک اور کیس تیار

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی پر ٹیلی تھون کے ذریعے جمع فنڈز کے ...

%d bloggers like this: