بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا کہنا ہے جذباتی بھارتی شائقین کو اپنا کرکٹ کلچر تبدیل کرنا ہوگا۔ایک جیت پر بہت زیادہ خوشی اور ایک بڑی ہار پر کھلاڑیوں پر تنقید کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ سیمی فائنل میں شکست کے بعد پریس کانفرنس میں ویرات کوہلی نے کہا کہ ایک گھنٹے سے کم وقت45منٹ کی خراب کرکٹ کھیل کر ہم نے اپنے مشن کو ختم کردیا۔میں اس موقع پر دکھی ضرور ہوں لیکن نہ دنیا ختم ہوگئی ہے اور نہ ہم برباد ہوگئے ہیں۔جب بڑے میچ میں چھ رنز پر تین وکٹ گرجائیں تو پھر واپسی مشکل ہوجاتی ہے۔ دھونی اور رویندرا جڈیجا نے بہتر ین بیٹنگ کی۔آخری چار اوورز میں ہمیں جیت کی توقع تھی لیکن نیوزی لینڈ نے چھوٹے اسکور کے باوجود کمال کی بولنگ کی۔نیوزی لینڈ کی ٹیم ذہنی طور پر مضبوط تھی اور انہوں نے اپنے اعصاب کو کنٹرول میں رکھا۔میں نے جڈیجا کی آج کی بیٹنگ سے بہترین اننگز اس سے پہلے نہیں دیکھی۔ ویرات کوہلی نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے بہت اچھی بولنگ سے ہمیں دبائو میں لیے رکھا۔ایک سوال کے جواب میں ویرات کوہلی نے کہا کہ مجھے دھونی کی ریٹائرمنٹ کا علم نہیں ہے، نہ ہی دھونی نے مجھ سے اس بارے میں کوئی بات کی تھی۔کوہلی نے کہا کہ اب ہمارے لوگوں کو اپنے رویے کو تبدیل کرنا ہوگا، کسی بھی کام میں شدت پسندی درست نہیں ہے ایک خراب کارکردگی پر تنقید اور ایک اچھی کارکردگی پر ناچ گانے میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن سے سوال کیا گیا کہ آپ کی کارکردگی سے ڈیڑھ بلین بھارتی آپ سے ناراض ہوں گے، انہوں نے اس بات کو گول کرتے ہوئے کہا کہ اب ڈیڑھ بلین لوگوں کو ہمیں فائنل میں سپورٹ کرنا چاہیے۔2015اور2019کے فائنل میں فرق ہے۔بولٹ اور ہنری کی بولنگ نے ہمیں جیت دلوائی ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پچ مشکل تھی اور ہمیں اندازہ تھا کہ جیت کے لئے ہمیں وکٹیں لینی ہیں۔ ابتدائی وکٹیں ملنے کے بعد ہم نے تسلسل کو قائم رکھا۔پچھلے فائنل کے مقابلے میں یہ فائنل اس لحاظ سے مشکل ہے کہ ہم آخری تین میچ ہارکر سیمی فائنل میں آئے تھے۔نیوزی لینڈ نے بھارت کے خلاف جو کارکردگی دکھائی ہے اسے برقرار رکھنا ہوگا۔

ٹرمپ پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے کیلیے متحرک

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطہ ہوا، جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا اور ہمیں امید ہے کہ امریکا اس موجودہ کشیدگی اور تنازع کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے 16 اگست کو بھی گفتگو ہوئی تھی، جس میں وزیراعظم نے پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا تھا، اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر نریندر مودی سے بات کریں گے اور آج ٹرمپ اور مودی کی خطے میں کشیدگی کم کرنے پر گفتگو ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 بجے وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے فوری طور پر ختم ہونا چاہیے اور خطے میں امن کو ہرصورت برقرار رہنا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے آج ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کا موقف وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور بھارتی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے خطے کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کے بھارت کے اقدامات نے خطے کو ایک سنگین صورتحال سے دوچار کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات یکطرفہ تھے، ان اقدامات کے پیچھے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے کی حیثیت کو تبدیل کرنا مقصد تھا جبکہ ان کا ارادہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقے کو اقلیتی علاقے میں تبدیل کرنے کا ارادہ ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بتایا کہ پاکستان کی رائے میں بھارتی حکومت کے اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ان اقدامات کے بعد جس نئی صورتحال نے جنم لیا اس سے انسانی حقوق کا ایک بحران جنم لے سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مکمل بلیک آؤٹ ہے، وہاں کی اصل صورتحال اور حقائق کیا ہے، دنیا کی نظروں سے یہ اوجھل ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کہا کہ آج کرفیو کو 15 روز ہوگئے، اس کا اندازہ اور لوگوں کی کیفیت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو گرفتاری کے بعد ریاست کشمیر سے منتقل کردیا گیا’۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ بھی گزارش کی کہ ان کی رائےمیں صورتحال اتنی تشویشناک ہے کہ انسانی حقوق تنظیموں کے مبصرین کو فی الفور مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے تاکہ صحیح صورتحال دنیا کے سامنے آسکے کیونکہ حقائق نہیں بتائے جارہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے امریکی صدر کا کشمیر کی صورتحال میں دلچسپی لینے اور رابطہ کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک تعمیری رابطے ہیں، لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا اس تنازع کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم سجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے آج پاکستانی قوم کی امنگوں کے مطابق نہتے کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، جس انداز میں وزیراعظم نے پاکستانیوں اور کشمیریوں کا مقدمہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش کیا اس پر مجھے فخر ہے۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: