کشمیر اور امریکی اسکرپٹ

کشمیر اور امریکی اسکرپٹ

کہانی شروع ہوتی ہے پیپلز پارٹی کے دور سے۔ جب امریکہ میں صدر اوباما اور پاکستان میں آصف زرداری حکمران تھے۔ امریکہ اور ہندوستان میں اسٹرٹیجک پارٹنرشپ کے آغاز، ایبٹ آباد آپریشن اور سلالہ کے واقعات کے نتیجے میں پاکستانی قیادت اس نتیجے تک پہنچی کہ اب امریکہ کے بجائے چین اور روس کی طرف جانا ہوگا اور مغرب پر اپنا انحصار کم کرکے علاقائی قوتوں سے ہاتھ ملانا ہوگا۔ 

یہ لائحہ عمل آصف علی زرداری اور جنرل کیانی نے مل کر بنایا۔ تبھی تو زرداری صاحب چین کے پے درپے دورے کرنے لگے۔ جب وہ پہلی مرتبہ روس جا رہے تھے تو امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے فون کرکے انہیں دھمکی تک دی اور روس جانے سے منع کیا لیکن وہ امریکہ کو ناراض کرکے روس چلے گئے۔ 

امریکہ سے بغاوت کی اس روش کے تسلسل کے طور پر زرداری صاحب نے گوادر کی بندرگاہ سنگاپور کی کمپنی سے واپس لے کر چین کے حوالے کر دی۔ سنگاپور کی کمپنی کو تاوان دینے کے لئے انہوں نے ملک ریاض جیسے ذاتی دوستوں کو بھی استعمال کیا جنہوں نے اپنی جیب سے ادائیگی کی۔ 

اسی طرح انہوں نے امریکی مرضی کے خلاف ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے کو آگے بڑھایا۔ بلاشبہ پیپلز پارٹی کا جو حشر ہوا اس میں کرپشن اور خراب حکمرانی کا بنیادی کردار تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت مغرب کی نظروں میں بھی ناپسندیدہ بن گئی تھی۔ میاں نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے چین اور روس کے ساتھ قربت کے سلسلے کو مزید تیز کر دیا بلکہ وہ تو ایک اور انتہا پر گئے اور سارے انڈے چین کے باسکٹ میں ڈال دیئے۔ وہ چین کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے کہ حکومتوں کے تعلق کو خاندانی تعلق میں بدلنے کی کوشش کی اور سی پیک کے حوالے سے چین کے ساتھ مناسب بارگیننگ بھی نہیں کی۔ 

تبھی تو یہ اعتراض ہوتا رہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں پاکستان کے مفادات سے زیادہ چین کے مفادات کا خیال رکھا جا رہا ہے تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے اسٹرٹیجک اور معاشی ہر حوالے سے پاکستان کو عملاً اپنا اسرائیل سمجھنا شروع کیا اور سفارتی یا معاشی سطح پر جہاں بھی ضرورت پڑی، اس نے پاکستان کو مدد فراہم کی۔ اسی طرح روس بھی دھیرے دھیرے پاکستان کے قریب آنے لگا۔ افغانستان کے معاملے پر اگر پاکستان امریکہ کو اپنے بیانیے کی طرف لے آیا ہے تو اس میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ چین اور روس کا بھی کردار رہا۔ نواز شریف کے اپنے جرائم بھی کم نہیں لیکن شاید ان کے ساتھ جو ہوا اس میں ان کے امریکہ سے متعلق اس باغیانہ اور چین سے متعلق اس تابعدارانہ رویے کا بھی کردار تھا۔

گزشتہ کچھ عرصہ میں امریکہ کے اندر دو طرح کی تبدیلیاں آئیں۔ ایک تو ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بن جانے کی تبدیلی ہے جو ہر معاملے کو صرف اور صرف معاشی اور تجارتی زاویے سے دیکھتے ہیں جبکہ دوسری تبدیلی یہ آئی ہےکہ امریکہ کے لئے اب القاعدہ اور طالبان نہیں بلکہ چین پہلی ترجیح بن گیا ہے۔ 

چین کے مقابلے کے لئے جہاں وہ دیگر اقدامات کر رہا ہے وہاں اس کی ضرورت ہے کہ بھارت کو اس کے مقابلے کے قابل بنانے کے لئے پاکستانی سائیڈ سے مطمئن کردیا جائے اور دوسری طرف پاکستان کو بہلا پھسلا کر چین اور روس کی طرف مزید قریب جانے سے باز رکھا جائے چنانچہ ایک طرف افغانستان میں پاکستان کی ضرورت ہے تو دوسری طرف خطے سے متعلق امریکہ کے ذہن میں یہ نقشہ ہے، اسی لئے وہ وقتی طور پر پاکستان پر مہربان ہوا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایک عرصے سے پاکستان کو یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ وہ کشمیر کے مسئلے میں اپنا کردار ادا کر کے ہندوستان کو مذاکرات کی میز پر لائے گا۔ نہ صرف مودی سے بات ہوئی تھی بلکہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ نے کافی ہوم ورک بھی کیا ہوا تھا۔ 

یہ بات عمران خان صاحب کے علم میں بھی آئی تھی اور اسی تناظر میں انہوں نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ مودی کے دوبارہ انتخاب سے مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار ہو گی۔ امریکہ کا منصوبہ یہ نظر آتا ہے کہ مغربی سرحد پر پاکستان کو اور مشرقی سرحد پر ہندوستان کو راضی کیا جائے۔ اسی لئے افغانستان کے حوالے سے کھل کر پاکستان کے رول کو تسلیم کر لیا گیا اور ہندوستان کو اس پورے عمل سے باہر رکھا گیا۔ شاید یہ اسکرپٹ پیش نظر تھا اس لئے ہندوستان نے افغانستان سے باہر ہونے پر وہ ردعمل نہیں دکھایا جس کی توقع تھی۔ 

اب اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کی ملاقات سے قبل کی گئی پریس کانفرنس کو ذہن میں تازہ کیا جائے تو بات کچھ نہ کچھ سمجھ میں آجاتی ہے۔ پاکستان میں اس پہلو کو مدِنظر نہیں رکھا جا رہا کہ یہ پریس کانفرنس عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی بات چیت کے آغاز میں ہوئی نہ کہ اس کے بعد۔ ابھی عمران خان صاحب نے ان سے گفتگو کی تھی اور نہ پاکستان کو کیس پیش کیا تھا کہ ٹرمپ صاحب نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ 

پریس کانفرنس اگر ملاقات کے بعد ہوتی تو ہم کہہ سکتے تھے کہ خان صاحب نے ان کو کشمیر یاد دلایا ہے یا پھر کسی بات پر قائل کیا ہے لیکن افغانستان کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ کہا وہ بھی پہلے سے ان کے ذہن میں تھا اور ہندوستان یا کشمیر پر بھی ان کی سوچ پہلے سے بنی ہوئی تھی۔ میرے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف ثالثی کا لفظ غیر ضروری استعمال کیا اور اصل بات وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ ہندوستانی قیادت سے ان کی بات ہو چکی ہے۔ 

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اظہار خیال سے مودی سرکار کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ امریکہ کے ساتھ جو منصوبہ بنا ہے وہ تو آشکار ہو گیا اور ہو سکتا ہے کہ امریکہ اب جلد از جلد خطے میں اپنے منصوبے کے بارے میں عمل درآمد کا مطالبہ کرے اور شاید اسی لئے اس نے اپنی بارگیننگ پوزیشن مضبوط بنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کا قدم عجلت میں اٹھایا۔ 

مودی سرکار سوچتی ہے کہ کل اگر امریکہ کے ایما پر مذاکرات کا آغاز ہو تو وہ اس پوزیشن میں ہو کہ مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ سمجھ کر معاملے کو آگے بڑھایا جائے لیکن جس بھونڈے انداز میں اس نے یہ کام کیا، اس کی وجہ سے ہو سکتا ہےکہ امریکہ کا یہ پورا خواب چکنا چور ہو جائے کیونکہ اب فریقین کے لئے اسکرپٹ کے مطابق آگے بڑھنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: