مقبوضہ کشمیر: پاکستان کیا کر سکتا ہے؟

مقبوضہ کشمیر: پاکستان کیا کر سکتا ہے؟

تحریر: مظہر عباس

مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے بعد پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت کو مکمل اتحاد اور اتفاق رائے کے تحت حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی قیادت کو ساتھ میں سنگین اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات کو آج جس استحکام اور یکجہتی درکار ہے، ایسی پہلے کبھی نہیں تھی۔ ہمیں پہلے اپنا گھر سُدھارنا ہوگا۔ 

حالیہ درپیش بحران پر پاکستان کو اقوام متحدہ، برطانیہ، چین، سعودی عرب، ترکی اور امریکا سے حوصلہ افزاء جواب ملا ہے۔ دُنیا نے بھارتی فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ حالات کا رُخ ہمارے حق میں ہو سکتا ہے؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کو نہ صرف اپنی اپوزیشن جماعتوں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اقدام پر بین الاقوامی دبائو کا بھی سامنا ہے۔ 

مقبوضہ وادی میں گزشتہ 5 دنوں سے مکمل میڈیا بلیک آئوٹ ہے۔ جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں حدود پھلانگ گئی ہیں۔ بھارتی اقدام وزیراعظم عمران خان کے دورئہ امریکا کے چند دنوں بعد ہی سامنے آیا۔ جب بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازع کشمیر کے حل کی اُمید بندھ چلی تھی۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر امریکی ثالثی کیلئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خواہش کی جانب اشارہ کیا تو نئی دہلی میں ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔ 

پاکستان میں صدر ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کیا گیا۔ لیکن ماہرین کو شبہ تھا کہ بھارت ثالثی کی امریکی پیشکش کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ اس کا یہی مؤقف رہا کہ تنازع کشمیر شملہ معاہدے کے تحت باہمی مذاکرات سے حل ہوگا۔ اس تنازع پر کارگل کی محدود جنگ کے علاوہ تین پاک بھارت باقاعدہ جنگیں ہوئی۔ کشمیرکا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے خسارے کا سبب بنا۔ 

دریں اثناء کسی نہ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لئے کوششیں بھی جاری رہیں۔ آگرہ میں سابق صدر پرویز مشرف سات نکاتی سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ لیکن بھارت آخری لمحات میں اس سے دستبردار ہوگیا۔ اس کی وجہ بھارتی حکمرانوں پر اندرون ملک دبائو تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بھارتی اقدام کے بڑے دُوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ 

کشیدگی نے زور پکڑا تو دُنیا کے امن کے لئے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ انتہاپسند ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی اور نریندر مودی کی انتخابی کامیابی نے حالات کو مزید بگاڑا۔ اس پس منظر میں مسئلہ کشمیر کے حل پر صدر ٹرمپ کا بیان خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔ اس پر وطن واپسی پر شادیانے بجانے کے بجائے اپنے معاونین اور عسکری قیادت کے ساتھ ممکنہ مضمرات پر غور کیا جانا چاہئے تھا۔

 بھارت نے تو فوری طور پر ٹرمپ کے ریمارکس کو مسترد کیا تاہم نریندر مودی اس پر چپ رہے حتیٰ کہ امریکی صدر اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہیں۔ سفارتی محاذ پر اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل انٹونیو گٹریس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو حل طلب مسئلہ قرار دیا جانا دُنیا کو کشمیر کے تنازع کی سنگینی سے آگاہ کرنے کا ابتدائی قدم بن سکتا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مودی حکومت کے یکطرفہ اقدام کی خود اندرون بھارت مذمت کی جا رہی ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آرٹیکل۔ 370 کے خاتمے کو جمہوریت کا قتل قرار دیا۔ 

پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے مؤقف کو دُرست قرار دیا۔ سلامتی کونسل نے بھی بھرپور تشویش ظاہر کی۔ ستمبر میں جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل پاکستان کو یہ معاملہ تمام فورمز پر اُٹھانا چاہئے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے سفارتی اقدامات کو مہمیز دے۔ پاکستان نے اپنے احتجاج کی علامت کے طور پر کچھ اقدامات کئے ہیں۔ جس میں سفارتی تعلقات کی معطلی، باہمی تجارت کا خاتمہ اور سمجھوتہ ایکسپریس کا بند کیا جانا شامل ہے۔ 

اس کے علاوہ اپنی مسلح افواج کو بھی انتہائی چوکنا کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چین گئے ہوئے ہیں جس نے بھارتی اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم خان نے ترکی، برطانیہ اور سعودی حکمرانوں سے ذاتی طور پر رابطے کئے۔ توقع ہے کہ وہ روسی صدر پیوٹن اور ایرانی قیادت سے بھی رابطہ کریں گے۔ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ کوساتھ لے کر دُنیا کا دورہ کریں۔ 

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے گروپس، ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اس معاملے میں متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ بھارت کو مقبوضہ وادی تک بین الاقوامی میڈیا کو رسائی دینے پر زور دیا جانا چاہئے۔ حریت رہنمائوں کو رہا اور کرفیو اُٹھایا جائے۔ بھارت کا اپنا یکطرفہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کے افغان طالبان سے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی اس معاملے میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ بھارت سمجھتا ہے اسے نظرانداز کیا گیا۔ آخر میں پاکستان کو چاہئے کہ اپنا گھر ترتیب میں رکھے۔ سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام نقصان دہ ہوگا۔

x

Check Also

لکھاری جو پہلے ناول سے کروڑ پتی بن گیا

لکھاری جو پہلے ناول سے کروڑ پتی بن گیا

تحریر: محمد بلال غوری نوبیل انعام برائے ادب کی ’’بے ادبی‘‘ پر کڑھ رہا تھا ...

%d bloggers like this: