کلبھوشن جادیو کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

کلبھوشن جادیو کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن جادیو کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا، بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوش جادیو تسلیم کر چکا ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہے جسے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے بھیجا گیا تھا۔

کلبھوشن کیس کا فیصلہ سننے کے لیے اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور کی قیادت میں پاکستانی وفد دی ہیگ پہنچ گیا ہے، ڈی جی سارک اور ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل بھی پاکستانی وفد میں شامل ہیں۔

عالمی عدالت انصاف کے اعلامیے کے مطابق کلبھوشن جادیو کیس کا فیصلہ آج برطانیہ کے وقت کے مطابق دن تین بجے دی ہیگ کے پیس پیلس میں سنایا جائے گا، فیصلہ پبلک سٹنگ کے دوران آئی سی جے کے جج عبدالقوی احمد پڑھ کر سنائیں گے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ پاکستانی وقت کے مطابق آج شام سات بجے سنایا جائے گا، کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔

قانونی ماہرین کے رائے میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پاکستان کے حق میں آنے کی قوی امید ہے، آئی سی جے کی طرف سے کلبھوشن کو زیادہ سے زیادہ ریلیف قونصلر رسائی ہی ہو سکتا ہے، اس سے قبل آئی سی جے 5 کیسز میں قونصلر رسائی دے چکی ہے، لیکن یہ پہلی دفعہ ہو گا کہ عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ ایک جاسوس کو قونصلر رسائی دی جائے یا نہیں۔

کیس کا پس منظر

کلبھوشن کیس کی آخری سماعت میں پاک بھارت دونوں وفود نے شرکت کی تھی جہاں پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جبکہ بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی، سماعت کے دوران پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے بھرپور کیس لڑا تھا جبکہ بھارت کی طرف سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کیے تھے۔

کلبھوشن کیس کے حوالے سے اب تک ہونے والی سماعت میں بھارت یہ واضح کرنے میں ناکام رہا ہے کہ کلبھوشن جادیو کے پاس 2 پاسپورٹ کیوں اور کیسے تھے۔

کلبھوشن جادیو 3 مارچ 2016ء کو بلوچستان سے گرفتار ہوا، جسے پاکستان ملٹری کورٹ کی طرف سے سزائے موت دی گئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اپریل 2017ء کو کلبھوشن جادیو کی سزائے موت کی توثیق کی، کلبھوشن نے رحم کی اپیل کی تھی جبکہ مئی 2017ء کو بھارت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گیا اور کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد رکوانے کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔

کلبھوشن کی پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد سے یہ کیس پاکستان اور بھارت میں وجہ نزاع بنا ہوا ہے، اسے پاکستان میں دہشت گردی اور خفیہ مشن کے الزامات میں پکڑا گیا تھا

بھارت نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے کمانڈر جاسوس کلبھوشن کی بریت، رہائی اور واپسی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاکستان کے وکیل بیرسٹر خاور قریشی نے تحریری اور زبانی دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئی سی جے کو بھارت کو کوئی ریلیف نہیں دینا چاہیے۔

بھارت ویانا کنونشن قونصلر ریلیشنز 1963 (1) (b) کے تحت پاکستان کے خلاف کلبھوشن یادیو کا یہ کیس لے کر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس گیا تھا۔ بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ اس نے 25 مارچ 2016ء کو کمانڈر کلبھوشن یادیو کے احترام میں فوری قونصلر رسائی فراہم نہ کر کے vccr1963 کی خلاف ورزی کی اور 10 اپریل 2017ء کو اس کا ملٹری کورٹ پراسس غیر منصفانہ تھا۔ 18 مئی 2017ء کو آئی سی جے نے میرٹ پر کسی فائنڈنگ کے بغیر سٹیٹس کو کیلئے عبوری اقدام جاری کیا۔

پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے تحریری استدعا اور کیس کے میرٹ کے حوالے سے شواہد فائل کیے گئے۔ 18 سے 21 فروری 2019ء تک آئی سی جے میں سماعت ہوئی تھی۔

x

Check Also

مشرف کیس: فیصلہ روکنے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس

لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی درخواست ...

%d bloggers like this: