ریاست ہوتی ہے ماں جیسی !

تحریر: نفیس صدیقی

پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہفتہ 13جولائی کو تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کے سیاسی اثرات کا درست اندازہ نہ لگانے والے خود کو گمراہ کر رہے ہیں۔ 1977کے بعد یہ پہلی ملک گیر ہڑتال تھی۔ ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی بڑی مارکیٹیں احتجاجاً بند رہیں۔ ایسی ہی ایک دو ہڑتالیں ہم نے پاکستان قومی اتحاد( پی این اے ) کی تحریک کے دوران دیکھی تھیں، جو ملک گیر تھیں لیکن ان ہڑتالوں میں بھی سندھ اور بلوچستان سمیت ملک کے کچھ حصے ہڑتالوں سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ 1977کے بعد اس طرح کی منظم اور ملک گیر ہڑتال کا غلط اندازہ لگانے والوں کو اپنی رائے پر نظرثانی کرنا چاہئے۔ خاص طور پر ان لوگوں کو اپنے اس دعوے کا ازسر نو جائزہ لینا چاہئے، جو حالیہ ہڑتال کو ناکام قرار دے رہے ہیں۔

1977میں ہونے والی ملک گیر ہڑتالیں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ہوئی تھیں، جو قائداعظم محمد علی جناح کے بعد سب سے زیادہ مقبول سیاسی رہنما تھے اور جن کی مقبولیت آج بھی پاکستان کی سیاست کا موثر سیاسی کارڈ ہے لیکن یہ پاکستان کی تاریخ کی حقیقت ہے کہ بھٹو کے خلاف بھی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتالیں ہوئیں۔ اس کے بعد ایسی ملک گیر ہڑتالیں نہیں دیکھی گئیں۔ پی این اے کی تحریک زیادہ تر شہروں کی مڈل کلاس میں موثر تھی۔ سیاسی جماعتوں کے کارکن زبردستی دکانیں بند کراتے تھے۔ تاجر اور صنعت کار طبقاتی اور نظریاتی بنیاد پر بھٹو مخالف بھی تھے۔ 13جولائی کی حالیہ ہڑتال کے پس پردہ یہ عوامل نہیں ہیں۔ تاجروں نے سیاسی جماعتوں کے کہنے پر ہڑتال نہیں کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے صنعتکار، تاجر اور پاکستان کی مڈل کلاس نے 25جولائی 2018کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی سب سے زیادہ حمایت کی تھی۔ اس کے باوجود 42سال بعد ملک گیر ہڑتال ہوئی اور وہ بھی تاجروں کی طرف سے۔ پاکستان تحریک انصاف کو اس پر ضرور سوچنا چاہئے۔

حالیہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے سیاسی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جس تحریک میں تاجر شامل نہ ہوں، وہ بظاہر کامیاب نہیں ہوئی۔ ایم آر ڈی اور اے آر ڈی اس کی واضح مثالیں ہیں، جو بالترتیب ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور میں چلائی گئیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان تحریکوں کے دور رس سیاسی اثرات پی این اے کی تحریک کے فوری اثرات سے زیادہ گہرے ہیں۔ شہروں میں بازار اور مارکیٹیں بند ہوتی ہیں تو ریاست کی عمل داری سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ اس مرتبہ تاجروں نے اپنے طور پر جو ملک گیر ہڑتال کی ہے، وہ ملک میں بنتی ہوئی سیاسی تحریک کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔ ہفتہ 13جولائی کو ہی تاجروں کی ہڑتال والے دن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی کے خلاف سکھر سے ضلع رحیم یار خان تک جو احتجاجی ریلی نکالی، وہ سیاسی تحریک کا ایک زور دار آغاز ہے۔ اب اگر تاجروں کے خلاف کے ساتھ معاملات طے بھی ہو جائیں، تب بھی ان کی اس ملک گیر ہڑتال کے سیاسی اثرات جاری رہیں گے۔ غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کے لوگوں نے اس ہڑتال کی ذہنی طور پر حمایت کی کیونکہ وہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ اس ہڑتال نے عام لوگوں کے ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کو سیاسی تخیل دیا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ تاجروں کی ہڑتال اس مشاورتی عمل کے مکمل ہونے کے فوراً بعد ہوئی، جو وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ معیشت کے مختلف شعبوں کے نمائندہ افراد کے ساتھ پورے ملک میں شروع کیا اور کراچی میں اختتام پذیر ہوا۔ کراچی کے تاجروں نے تو یہ اعلان کردیا کہ ان کے وزیراعظم سے مذاکرات ناکام رہے ہیں۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے او رپاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شاید اس بات کا ادراک نہیں کر سکی کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ سخت گیر حکومتیں نہ صرف خود ناکام ہوتی ہیں بلکہ ریاست کو بھی ناکام بنا دیتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت سے صرف پکڑ دھکڑ اور خوف و ہراس کا تاثر جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک طویل بحث ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیاں درست ہیں یا نہیں لیکن مہنگائی، غربت اور بیروزگاری میں اضافے اور معیشت کی سست روی نے تمام طبقات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور صرف ایک سال کے عرصے میں یہ سوچ پیدا ہو گئی ہے کہ اس حکومت کو لوگوں کی مشکلات اور مصائب کی پروا نہیں ہے۔

احتجاجی اور اجتماعی سوچ چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو، وہ اپنے اثرات ضرور دکھاتی ہے۔ تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر میڈیا میں بہت بحث ہو رہی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کے بیانات کا ایک نکتہ اسے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ وزیراعظم عمران خان یہ درست کہتے ہیں کہ پاکستان قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے اور ہمیں پاکستان کو اس جال سے ہر حال میں نکالنا ہے۔ عمران خان کی نیت پر شک نہیں ہے لیکن انہیں شاید اس بات کا مکمل تاریخی اور سیاسی ادراک نہیں ہے کہ پاکستان کو ایک منصوبہ بندی کے تحت قرضوں کے اس جال میں پھنسایا گیا ہے او رپاکستان کی پوری سیاسی تاریخ اس منصوبہ بندی کے تابع ہی ہے۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جال سے نکلنے کی پالیسی سے پاکستان کی معاشی ترقی کی اب تک پیدا ہونے والی صلاحیت متاثر ہو یا پاکستان کو ملنے والے نئے مواقع سے ہاتھ دھونا پڑے یا پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو۔ دنیا کے کئی اہم ملک آج بھی ہم سے زیادہ مقروض ہیں ان کا قرض GDPسے کہیں زیادہ ہے۔ کوشش آمدنی بڑھانے کی ہونا چاہئے لوگوں کو بیروزگار، بھوک اور افلاس دینے کی نہیں۔ معاملات کو سیاسی تاظر میں دیکھنے کی عادت ڈالنا چاہئے۔ تاجروں کی ہڑتال کو ناکام قرار دینا قطعی طور پر غیر سیاسی اپروچ ہے۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: