اقتدار کی بل کھاتی ہوئی کہانی

تحریر: الطاف حسین قریشی

ہم آج عرصۂ محشر میں ہیں۔ ایک ایسی افراتفری ہے کہ اہلِ اقتدار کو سامنے کی چیز بھی نظر نہیں آ رہی۔ اِس لئے اہلِ دانش قانون کی طرح اقتدار کو بھی اندھا کہتے ہیں۔ قانون کس قدر اندھا ہوتا ہے، یہ تو نیب کی شبانہ روز سرگرمیوں سے اچھی طرح واضح ہوتا رہتا ہے۔ منگل کے روز فاضل چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایل این جی کوٹہ کیس میں سابق وزیر سیف اللہ، سابق سینیٹر صفدر عباسی کی بریت کے خلاف نیب کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب کا ’اللہ ہی حافظ‘ ہے۔ نیب کے وکیل کسی ثبوت کے بغیر بریت کا عدالتی حکم منسوخ کرانا چاہتے تھے۔ قومی احتساب بیورو کا یہ وتیرہ بن گیا ہے کہ کسی دلیل اور منطق کے بغیر اُن لوگوں کو کڑی سزائیں دلوائیں جن کو حکومت اپنے راستے سے ہٹا دینا چاہتی ہے۔ اِس ظالمانہ روش کے باعث چیئرمین نیب کا وقار بری طرح متاثر ہوا ہے اور احتساب کا عدالتی نظام شدید حملوں کی زد میں ہے۔ بعض واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اربابِ حکومت اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔جسٹس صاحب عزت ِنفس پر لگی گہری چوٹیں آج بھی سہلا رہے ہیں۔

یہ زخم ہی کیا کم تھا کہ چند روز بعد مسلم لیگ(ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے اپنی طویل پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج جناب ارشد ملک کی ایک مبینہ وڈیو دکھائی اور آڈیو سنائی جس میں وہ اپنے ایک پرانے شناسا ناصر بٹ کے سامنے اِس افسوسناک حقیقت کا برملا اعتراف کر رہے تھے کہ اُنہوں نے شدید دباؤ کے تحت جناب نواز شریف کو سزا سنائی تھی، چنانچہ اُن کے ضمیر پر اِس قدر بوجھ ہے کہ اُنہوں نے کئی بار خود کشی کرنے کا سوچا اور وہ شریف خاندان سے معافی کے طلبگار ہیں۔ اِن مبینہ اعترافات نے نیب کے نظامِ احتساب کی پوری قلعی کھول دی ہے۔ اِس کے علاوہ اقتدار کے روایتی اور غیر روایتی شراکت داروں کی مہم جوئیوں پر بڑے بڑے سوال اُٹھا دیئے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کی پریس کانفرنس نے ایوانِ سیاست میں ایک زلزلہ طاری کر دیا ہے۔ حکمران جماعت سے وابستہ لوگ اپنے آپے میں رہنے اور دلیل سے بات کرنے کے بجائے دھمکیوں پر اُتر آئے اور جوشِ غضب میں بے سروپا باتیں کرنے لگے۔ ایک طرف سے حاکمانہ لہجے میں آواز آئی کہ جو وڈیو ٹی وی اسکرین پر دکھائی گئی ہے، وہ جعلی ہے اور جج صاحب کو جس شخص سے باتیں کرتے دکھایا گیا ہے، وہ کئی شہریوں کا قاتل ہے۔ ’راج کماری‘ نے اپنی اِس حرکت سے ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ہم وڈیو کا فرانزک آڈٹ کرائیں گے اور مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ ایک اور غضب ناک آواز سنائی دی کہ جج صاحب کو نشہ آور مشروب پلا کر اُن کی وڈیو تیار کی گئی ہے۔ قانون حرکت میں آئے گا اور کسی کو ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسرے روز جج صاحب نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ وڈیو اور آڈیو جعلی ہیں اور اُن کی باتیں سیاق و سباق سے ہٹ کر یکجا کی گئی ہیں۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے نواز شریف کو قانون کے مطابق سزا دی ہے۔ ایک مقدمے میں اُنہیں بری کیا اور دوسرے میں سزا سنائی۔ یہی بات میری دیانت اور غیر جانبداری کی شہادت دیتی ہے۔ اِس پریس ریلیز میں یہ اعتراف بھی موجود تھا کہ ناصر بٹ اور اس کے بھائی عبداللہ بٹ میرے پرانے شناسا ہیں۔ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کا یہ نقطۂ نظر سامنے آیا ہے کہ جج صاحب نے وڈیو اور آڈیو کی موجودگی سے انکار نہیں کیا۔ یہ تسلیم بھی کر لیا کہ ناصر بٹ اُن کے پرانے شناسا ہیں۔ اِس پریس ریلیز میں اُن کی طرف سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران مجھے نواز شریف خاندان کی طرف سے رشوت کی پیشکش ہوتی رہی اور دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں لیکن میں نے اپنے ضمیر کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کیا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ شروع میں اربابِ حکومت وڈیو کا فرانزک آڈٹ کرانے اور مجرموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے رہے، لیکن دوسرے تیسرے روز ہی جناب وزیرِاعظم کا بیان آ گیا کہ ہمارا وڈیو سے کوئی تعلق نہیں اور عدلیہ کو اِس کا نوٹس لینا چاہئے۔

اب نیب نے ایک دوسری احتساب عدالت میں درخواست دی ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی طرف سے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ دینے پر اُنہیں سزا دی جائے۔ عدالت کے جج محمد بشیر نے مریم صاحبہ کو 19جولائی کو طلب کر لیا ہے۔ تمام سینئر قانون دانوں کی رائے میں یہ نوٹس جاری نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اِسی مقدمے میں اُنہیں پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے۔ سابق وزیرِاعظم جناب شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے پاس مزید وڈیوز بھی ہیں جن میں اہم شخصیتوں کے نام بھی ہیں۔ مریم نواز نے اپنے باغیانہ موڈ میں کہا ہے کہ مجھے اپنے رِسک پر بلانا ’میری باتیں سن سکو گے نہ سہہ سکو گے‘۔ مسلم لیگ(ن) کے صوبہ پنجاب کے صدر اور دبنگ سیاسی لیڈر جناب رانا ثناء اللہ کی اینٹی نارکوٹکس فورس کے ذریعے گرفتاری نے صورتحال کو گمبھیر بنا دیا ہے سچ تو یہ ہے کہ پورے نظام کی آزمائش ہے۔ نظر یہ آتا ہے کہ اگر آئین کے تحت ریاستی ادارے اپنے حدود و قیود میں نہ رہے، تو اقتدار اُن کے ہاتھ سے نکلنے کا خطرہ ہے۔ ہماری عدلیہ، ہماری مقننہ، ہماری انتظامیہ اور ہمارا پورا وجود لرزہ براندام ہیں اور عدالتوں میں بپا ہونے والا معرکۂ اقتدار پورے نظام کی کہانی کو ایک خطرناک موڑ کاٹنے پر مجبور کر دے گا۔

گزشتہ جمعہ کو پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن رسا 93سال کی عمر میں دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کی قبر پر شبنم افشانی فرمائے۔ وہ جموں سے پاکستان آئے اور امریکہ سے کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کیا۔ وہ بہاولپور یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ اِس کے بعد آٹھ سال تک پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تعینات رہے۔ وہ بلند پایہ ماہرِ تعلیم کے علاوہ بہت بلند اخلاق انسان اور طلبہ کے حقیقی دوست تھے۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: