آٹو انڈسٹری 24 سالہ تاریخ کے سنگین ترین بحران کا شکار

آٹو انڈسٹری 24 سالہ تاریخ کے سنگین ترین بحران کا شکار

حکومتی اقدامات کے نتیجے میں آٹو انڈسٹری ربع صدی کے سنگین ترین بحران سے دوچار ہو رہی ہے جس سے آٹو موبیل انڈسٹری سے سالانہ ڈیڑھ دو سو ارب روپے کا کم ٹیکس ملا کرے گا۔ آٹو انڈسٹری (ن) لیگ حکومت کے دور میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والی انڈسٹری تھی۔ اسکے بعد سگریٹ‘ تمباکو اور ٹیلی کام‘ موبائل فون وغیرہ سیکٹر ایف بی آر کو ریونیو دیا کرتے تھے۔ جنگ کو معلوم ہوا ہے کہ سوزوکی کمپنی نے اپریل جون 2018ء کی سہ ماہی میں خسارہ شو کر دیا ہے اور 31دسمبر 2019ء تک موجودہ صورتحال جاری رہی تو ہنڈا‘ ٹویوٹا کمپنیاں بھی خسارہ دکھانے لگیں گی۔ پچھلے سال جون 2018ء کے مقابلے میں جون 2019ء میں گاڑیوں کی سیل پچاس سے ساٹھ فیصد گر گئی ہے جس کے نتیجے میں ہنڈا اور ٹویوٹا کمپنیوں نے سینکڑوں ملازمین کو ملازمت سے نکال دیا ہے۔ جون 2019ء میں فی گاڑی قیمت 4سے 7لاکھ ٹیکسوں کی وجہ سے بڑھ گئی ہے۔ ٹویوٹا اور ہنڈا کمپنیوں نے ماہانہ گاڑیوں کی پروڈکشن 6ہزار سے کم کر کے اڑھائی ہزار کر دی ہے۔ اسی تناسب سے ملک بھر میں سیلز سروس

اور سپیئر پارٹس ٹرپل ایس (SSS)ڈیلرشپ رکھنے والوں نے بھی ملازمین کی تعداد کم کرنا شروع کر دی ہے

x

Check Also

میڈیکل بورڈ نواز شریف کے پلیٹیلیٹس میں کمی کی وجوہات جاننے میں تاحال ناکام

نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای ...

%d bloggers like this: