کابل دھماکہ، بچوں سمیت 100 زخمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ترجمان فیروز بشاری کا کہنا ہے کہ بم حملے سے علاقے کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے 26 بچے بھی زخمی ہوئے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور طالبان کے درمیان 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے قطر میں مذاکرات کے نئے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے۔

پولیس حکام محمد کریم کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کی عمارت کے باہر بارود سے بھری گاڑی میں دھماکا ہوا جس کے بعد طالبان کے جنگجو قریبی مارکیٹ میں قائم اونچی عمارت پر چڑھ گئے اور وزارت پر مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ 10 گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے میں پانچوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا۔

جائے وقوع سے قریب قائم ایک ریسٹورنٹ کے مالک کا کہنا تھا کہ حملے سے نجی اسکول کے شیشے ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے کئی طالب علم زخمی ہوئے۔

خیال رہے طالبان نے حالیہ عرصوں میں کابل پر متعدد حملے کیے ہیں جن میں سے زیادہ تر میں افغان اور امریکی فوج یا وفود کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان نے طالبان کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘اس طرح کے حملے افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کو بگاڑنے کرنے کی سازش ہیں’۔

امن مذاکرات
خیال رہے کہ طالبان اور امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے درمیان قطر میں امن مذاکرات کا ساتویں مرحلے کا آغاز 29 جون کو ہوا تھا جس کا مقصد افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امن مذاکرات میں موجود 2 ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے براہ راست مذاکرات مزید نہیں ہورہے، تاہم مذاکرات کے ختم ہونے کے حوالے سے کوئی بھی اعلامیہ سامنے نہیں آیا ہے۔

مذاکرات کے کمرے میں موجود حکام کا کہنا ہے کہ ‘طالبان کے حالیہ حملے سے ہماری ملاقات کا مقصد تبدیل ہو چکا ہے’۔

دوحہ میں قائم طالبان کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ ‘فی الوقت ہماری تنظیم کا ایک ہی مقصد ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت کا اعلان کیا جائے’۔

اس سے قبل طالبان حکام کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغان حکومت سے مذاکرات اور جنگ بندی کے اعلان سے قبل تمام غیر ملکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا ہوجائے۔

واضح رہے کہ امریکی قیادت میں نیٹو کے مشن جس کا مقصد افغان افواج کی تربیت کرنا ہے، کے تحت 20 ہزار سے زائد غیر ملکی افواج افغانستان میں موجود ہے جن میں زیادہ تر تعداد امریکیوں کی ہے۔

اس کے علاوہ امریکی فوج افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز بھی کرتی رہی ہے۔

ایک ہفتے قبل امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کابل کا دورہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ انتطامیہ کو امید ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات یکم ستمبر تک مکمل ہوجائیں گے۔

امن مذاکرات کے ساتھ ہی دوسری جانب طالبان اور غیر ملکی افواج کی حمایت یافتہ افغان فوجیوں کے درمیان لڑائیاں جاری ہیں۔

افغانستان کے وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 صوبوں میں 67 طالبان کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے افغان فورسز کے خلاف 52 آپریشنز کیے ہیں جن میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتانے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں تاکہ اپنے اہلکاروں کے حوصلے بلند کیے جاسکیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان کے بمباروں نے جنوبی افغانستان میں قائم ضلعی سینٹر پر حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 8 الیکشن ورکرز سمیت 19 افراد ہلاک ہوگئے۔

قندھار صوبے کے پولیس ترجمان قاسم افغانی نے بتایا تھا کہ ضلع معروف میں طالبان بارود سے بھری 4 گاڑیاں لے کر سرکاری کمپاؤنڈ میں گھس آئے تھے۔

x

Check Also

طالبان قیدیوں کا غیر ملکی پروفیسرز کے ساتھ تبادلہ مؤخر

افغان حکومت کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ 2 مغربی مغویوں کا 3 طالبان قیدیوں ...

%d bloggers like this: