سوزوکی آلٹو منظرعام پر آتے ہی فلاپ

پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کی گئی پہلی ساڑھے چھ سو سی سی گاڑی متعارف کرا دی گئی۔۔ اسلام آباد کے پاک چائینہ سینٹر میں سوزوکی موٹرز نے رنگا رنگ تقریب میں گاڑی متعارف کرائی۔ شرکا کو آلٹو 660 سی سی کے فیچرز کے بارے میں جاننے کا بھرپور موقع ملا۔
پاک سوزوکی موٹرز کے ترجمان کے مطابق آلٹو کار مقامی سطح پر تیار کی گئی پہلی 660 سی سی گاڑی ہے جس میں ایڈوانس سیفٹی فیچرز اور پاور پیک شامل ہے۔ تقریب کے شرکاء کے لیے انٹرٹینمنٹ کا بھی اہتمام کیا گیا۔

آلٹو 660 سی سی کی قیمت دس لاکھ سے شروع ہوکر 13 لاکھ روپے تک جاتی ہے۔ ایڈوانس فیچرز جیسے پاور اسٹیئرنگ وغیرہ کے لیے آپ کو تیرہ لاکھ روپے خرچ کرنا ہوں گے۔


تقریب کا آغاز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز ہوگیا۔ آل نیو آلٹو 660 سی سی کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا لیکن جلد ہی تعریف کرنے والوں سے زیادہ تنقید کرنے والے آگئے۔

کراچی کے بلاگر نعمان یونس نے اس ایونٹ کو تاریخ کا سنگ میل قرار دیا تو اکبر نامی ٹویٹر صارف نے لکھا کہ وہ جاپان سے آلٹو گاڑیاں درآمد کرتے ہیں جن میں پارکنگ سنسر اور ای این ای چارج بھی شامل ہیں، اس آلٹو کے لیے اتنا ہنگامہ کیوں برپا ہے؟۔

بدتمیز زید نے تو بدتمیزی کی انتہا ہی کر دی۔ نئی نویلی آلٹو کو لیبارٹری کی مشین قرار دے دیا۔

انس نامی صارف نے یونائیٹڈ کی براوؤ اور آلٹو کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پاکستانی براوؤ خریدنی چاہیے۔

x

Check Also

فوٹوگرافی کے شوقین افراد کیلیے خاص فون

اگر آپ کیمرے کے لیے اسمارٹ فون لینا پسند کرتے ہیں تو گوگل کے جلد ...

%d bloggers like this: