بے نامی سیلز کا نیٹ ورک

بے نامی اکاؤنٹس کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے بے نامی سیلز کا بڑا نیٹ ورک پکڑلیا۔

ایف بی آر کے مطابق شوگر، ٹیکسٹائلز اور بڑی فیکٹریاں بے نامی سیل سے اربوں روپے ٹیکس چوری کررہے تھے۔ حکام کے مطابق اصل خریداروں کے بجائے مزدوروں اور ڈرائیوروں کے نام پر فروخت کا اندراج ہوتا تھا۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ بے نامی فروخت سے ایف بی آر کو اِنکم اور سیلز ٹیکس کی مد میں چکمہ دیا جا رہا رہا تھا، بے نامی خریدار ریٹرن جمع نہیں کرواتے اور اس طرح ایف بی آر کو دھوکا دیا جا رہا تھا۔

حکام کے مطابق یہ طریقہ پوری سپلائی چین کی آمدن اور سیلز ٹیکس چھپانے کیلئے استعمال ہورہا تھا، ایف بی آر نے معاملے کی مزید گہرائی میں تحقیقات شروع کر دی ہے، شوگر اور ٹیکسٹائل ملز مالکان کم فروخت ظاہر کر کے بھی ٹیکس چوری کررہے تھے۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: