'تاریخ پہ تاریخ آخر کب تک'

‘تاریخ پہ تاریخ آخر کب تک’

تحریر: علی اکبر

پشاور میں زیر تعمیر معروف ٹرانسپورٹ منصوبے بی آر ٹی کی تکمیل کے لیے اتنی تاریخیں دی جاچکی ہیں کہ اب ذہن پر کافی زور دینا پڑھتا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کتنی تاریخیں تبدیل کی جا چکی ہیں البتہ 23 مارچ کی اہمیت کے باعث صوبائی حکومت کی منصوبے کی تکمیل سے متعلق آخری تاریخ یاد ہے۔

جی ہاں! صوبائی حکومت نے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کی تکمیل کی حتمی ڈیڈ لائن 23 مارچ 2019 رکھی تھی جو پوری نہیں ہوسکی اور سبکی سے بچنے کے لیے ڈی جی پی ڈی اسرار خان اور سیکریٹری ماس ٹرانزٹ کامران رحمٰن کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔

متعدد مرتبہ ڈیڈ لائن دینے کی شرمندگی سے بچنے کے لیے حکومت نے اس مرتبہ کچھ تدبیر بدلی اور بی آر ٹی کی تکمیل کی تاریخ عوام کو بتانے کے بجائے اندرون خانہ طے کرلی۔۔۔ بھلا ہو کنسلٹنٹ کا جس نے ایک خط کے ذریعے سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔

جی ہاں! 23 مارچ کے بعد بس یپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تکمیل 30 جون کو مقرر کی گئی ہے، جس پر کنسلٹنٹ نے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو لکھے گئے خط میں خدشات کا اظہار کیا کہ کام کی رفتار بہت سست ہے اور ایسا بلکل بھی دکھائی نہیں دیتا کہ منصوبہ 30 جون 2019 تک مکمل ہوجائے گا۔

کنسلٹنٹ نے خبردار کیا کہ منصوبے کی تکمیل کے لیے کام کی رفتار کی حد 15 فیصد ہے جبکہ اس وقت منصوبے کی رفتار صرف 3.3 فیصد ہے۔

ان کی جانب سے پی ڈی کو سفارش کی گئی ہے کہ کنٹریکٹ کے مطابق ٹھیکیدار پر منصوبے کی مجموعی لاگت کا 5 فیصد جرمانہ یومیہ کی بنیاد پر عائد کیا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی کنسلٹنٹ نے ٹھیکیدار پر جرمانے کی سفارش کی تھی جس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ بی آر ٹی پر چلانے کے لیے 220 بسوں میں سے 70 بسیں پشاور پہنچ چکی ہیں جبکہ کھڑی کھڑی بسوں کی ورانٹی بھی ختمی تاریخ کے قریب تر ہوتی جارہی ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بی آر ٹی منصوبہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے کیونکہ جو منصوبہ 6 ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا وہ 2 سال بعد بھی مکمل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

بی آر ٹی پر ارباب اختیار بھی شش وپنج کا شکار ہیں، کیونکہ اگر وہ ٹھیکیدار پر جرمانہ عائد کرتے ہیں تو عدالتی کارروائیوں کے باعث منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہونے کے امکانات ہیں، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو بھی منصوبہ مقررہ وقت یعنی 30 جون تک مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔

منصوبے کی ڈیڈ لائن، جو 23 مارچ کی تھی، مکمل نہ ہونے پر بی آر ٹی منصوبے کے 2 اعلی افسران کو قربانی کا بکرا بنا کر میڈیا اور شہریوں کو تو کچھ عرصے کے لیے رام کر لیا گیا مگر 30 جون کو اس کی عدم تکمیل کی صورت میں کس کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گی؟

خیال رہے کہ بی آر ٹی منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز اکتوبر 2017 میں ہوا تھا کہ جسے 2018 کے انتخابات سے قبل 6 ماہ میں مکمل ہونا تھا لیکن اس میں تاخیر کے سبب پشاور ہائی کورٹ نے گزشتہ برس جولائی میں نیب کو اس کے مشکوک ہونے کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

نیب نے ایشین بینک کے فنڈز سے بننے والے 67 ارب 80 کروڑ روپے کے اس ماس ٹرانزٹ نظام پر اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی تھی جسے پشاور ہائی کورٹ نے منصوبے میں مزید تاخیر سے بچنے کے لیے سربمہر کردیا تھا۔

x

Check Also

کشمیر کہانی

تحریر: رؤف کلاسرا وی پی مینن کی کہانی بہت مسحور کن ہے کہ کیسے ایک ...

%d bloggers like this: