چیئرمین نیب نے نواز لیگ تقسیم کردی

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے متنازع انٹرویو اور آڈیو ویڈیو اسکینڈل کے معاملے پر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) منقسم ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے رہنما ملک احمد خان نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب اس معاملے کی وضاحت کریں اور اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اخبار کے کالم پر ہتک عزت کا کیس دائر کررہے ہیں، ہم ان کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں بھی جارہے ہیں، ان کے نوٹسز نے لوگوں کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب ہمیں گرفتاری کی وجوہات بنانے پر بھی تیار نہیں، نیب قانون میں کہاں لکھا ہے کہ چیئرمین نیب خود سوالنامہ ترتیب دیں، نیب تکلیف دہ قوانین کو نافذ رکھتا ہے۔

چئیرمین نیب سے استعفیٰ مانگنا ملک احمد کی ذاتی رائے ہے، مریم اورنگزیب
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ملک احمد خان کے بیان سے اعلان لاتعلقی کردیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک احمد خان کا چیئرمین نیب کے استعفیٰ کا مطالبہ اور مقدمہ درج کرنے کا اعلان، ان کی ذاتی رائے ہے، یہ پارٹی کا مؤقف نہیں۔

نیب نے نجی ٹی وی پر نشر چیئرمین نیب سے متعلق خبر کی تردید کردی

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی چئیرمین نیب سے متعلق واضح پارٹی مؤقف بیان کرچکے ہیں لہٰذا چئیرمین نیب کے واقعے پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو متنازع انٹرویو کے باعث اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا تھا کہ ان کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل نے چیئرمین نیب کی ایک مبینہ آڈیو ویڈیو چلائی تھی جس میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اپنے آفس میں موجود ہیں جہاں ان کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود ہے۔

نیب نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے حوالے سے نجی چینل پر چلنے والے آڈیو ویڈیو کلپ کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے اسے چیئرمین نیب کے خلاف سارش قرار دیا ہے۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: