اسٹریچر یا وہیل چیئر؟

ہسپتالوں اور دیگر ہنگامی حالات میں وہیل چیئر اور اسٹریچر کی یکساں ضرورت پڑتی ہے، اور اسی کمی کو دیکھتے ہوئے ڈنمارک کی ایک کمپنی نے ایسا اسٹریچر تیار کیا ہے جو آسانی سے چند سیکنڈوں میں وہیل چیئر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

اسٹوڈیو روٹر اور ریٹر ہیلفر میڈیکل کمپنیوں نے یہ ہلکا پھلکا اسٹریچر بنایا ہے جو ضرورت کے تحت پہیوں والی کرسی میں بدل جاتا ہے۔ اسٹوڈیو روٹر کمپنی نے محسوس کیا ہے کہ ڈنمارک میں عام اسٹریچر بہت بھاری ہوچکے ہیں اور وہ بجلی کی قوت سے چلتے ہیں۔ لیکن جدید ایمبولینس میں مریض کو زمین سے اٹھانے والے ہلکی پھلکی اسٹریچر کی جگہ اور ضرورت اب بھی باقی ہے جو وہیل چیئر میں بدل سکتا ہو۔

وہیل چیئر کو ملٹی اسکوپ پرو کا نام دیا گیا ہے جو 10 کلوگرام وزنی ہے۔ اسے دو مرحلوں میں کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ وہیل چیئر بنتے ہی اس کے فٹ ریسٹ (پاؤں دھرنے کی پلیٹیں) کھل کر باہر آجاتی ہیں۔ وہیل چیئر اسٹریچر کی آزمائش کئی اسپتالوں میں جاری ہے اور اس سال کے اختتام پر اسے فروخت کےلیے پیش کردیا جائے گا۔

x

Check Also

بھارت، کم سن لڑکا 135 کتابوں کا مصنف بن گیا

بھارت، کم سن لڑکا 135 کتابوں کا مصنف بن گیا

بھارتی ریاست اتر پردیش میں 13سالہ لڑکا 135 کتابوں کا مصنف بن گیا۔ مریجندرا راج ...

%d bloggers like this: