مسلم لیگ(ن) کا چیئرمین نیب سے متعلق مبینہ آڈیو، ویڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب ) کی گزشتہ رات منظر عام پر آنے والی مبینہ ویڈیو اور آڈیو پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تبصرہ کیا ہے۔

شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ چئیرمین نیب کے گزشتہ روز واقعے پر کل رات میں بہت واضح مؤقف دے چکا ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں وزیراعظم عمران خان کے ‘دوست’ کے چینل سے ویڈیو نشر ہونے کے نئے انکشافات کی روشنی میں ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو وزیراعظم اور چیئرمین نیب سے ان سوالوں کے جواب لے اور حقائق عوام کے سامنے لائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے متعلق ایک مبینہ آڈیو جاری کی جس میں ایک شخص (مبینہ طور پر چیئرمین نیب) کو کسی خاتون سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے جس میں کچھ مقامات پر نازیبا جملوں کا بھی استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ مذکورہ چینلز نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص (مبینہ طور پر چیئرمین نیب) کسی خاتون کو گلے لگا کر الوداع کہہ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹی وی چینل نے اس آڈیو کلپ میں مرد کی آواز کو چیئرمین نیب کی آواز بتایا تھا، تاہم نیب نے الزامات کی تردید کی اور اسے ‘بلیک میلر گروہ کا پروپیگنڈا’ قرار دیا۔

بیورو کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ان آڈیو کلپس کا مقصد نیب اور اس کے چیئرمین کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے’۔

چیئرمین نیب کی ویڈیو کے پیچھے وزیراعظم کا ہاتھ ہے، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کی ویڈیو پر شہباز شریف کہہ چکے ہیں کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔

شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ پارٹی کے دیگر رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی، محسن رانجھا اور عباس آفریدی بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اینکر کو دیے گئے انٹرویو میں چیئرمین نیب نے بہت باتیں کرتے ہوئے یہ کہا کہ ان پر بہت دباؤ ہے اور یہ انکشاف کیا تھا کہ نیب کے پاس ایسے کیسز بھی موجود ہیں جن سے حکومت گر سکتی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ جس ادارے نے آڈیو اور ویڈیو چلائی وہ ادارہ طاہر خان کا ہے جو عمران خان کے دوست اور مشیر بھی ہیں اور انہوں نے الیکشن مہم کے دوران پی ٹی آئی کو فنڈنگ بھی کی تھی۔

شاہد خاقان عباسی نے الزام عائد کیا کہ اس ویڈیو کے تانے بانے وزیراعظم ہاؤس تک پہنچتے ہیں اور ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے وزیراعظم کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے ایک مرتبہ پارٹی مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ رول نمبر 244 کے تحت پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تو اس قومی نوعیت کے مسئلے کی تحقیقات کرے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف 27 مئی کو قومی اسمبلی میں کمیٹی تشکیل دینے کے لیے تحریک پیش کریں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شاہد خاقانان عباسی نے کہا کہ ہمیں پہلے دن سے ہی نیب پر تحفظات ہیں، ہم نے نیب کے حوالے سے سوال کیے اب ان کی کڑیاں بھی ملنا شروع ہوگئی ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان کا خیبرپختونخوا میں احتساب سب نے دیکھ لیا، آج چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے تاکہ وہ حکومت کی کرپشن چھپائے، اب حقائق پاکستان کے عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی سے بھاگنا ثابت کرے گا کہ دال میں کچھ کالا ہے، آج تک حقائق کے مطابق دال پوری کالی نظر آرہی ہے۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: