شرمین عبید چنائے کی اینی میٹڈ فلم ’’چھینا ہوا بچپن‘‘ ریلیز

دو مرتبہ آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم ساز شرمین عبید چنائے کی نئی اینی میٹڈ فلم ’چھینا ہوا بچپن‘ ریلیز کردی گئی۔

عالمی شہرت یافتہ فلمساز شرمین عبید چنائے نے اپنی اینی میٹڈ فلم ’چھینا ہوا بچپن‘ سوشل میڈیا پر ریلیز کردی جوکہ چار اقساط پر مشتمل ہے، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی فلم کا موضوع معاشرے کی رہنمائی کے حساب سے منتخب کیا گیا ہے، فلم کی کہانی گھر میں کام کرنے والی ملازمہ بچی کے گرد گھومتی ہے۔

فلم کی کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ معصوم ملازمہ بچی کو اُس کے والدین قرضہ چکانے کے لئے ایک خاندان کے گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور بچی دن بھر کام کاج کرتی رہتی اور خود کو تنہا محسوس کرتے ہوئے اپنے والدین کو یاد کرتی ہے۔

View this post on Instagram

'Shattering the Silence' is an initiative of SOC Films to raise awareness about social issues which children in the country face today. Using the medium of film, we wanted to get audiences to critically engage with real-life stories of child abuse and to understand the laws which safeguard them as well the resources they can access, if they or anyone children they know of are forced into situations of marriage, labour, trafficking or physical abuse. "Cheena Hua Bachpan" is the first installment in this 4 part series and explores trafficking through the widely occurring but largely overlooked issue of children working as domestic labourers. The story is told through the character of a young girl trafficked into working at an influential family's home, where she was deprived of basic human rights such as education. The film explores how and why this situation came to be legally defined as trafficking, as well recounting the emotional, mental and physical effects of working long hours as a domestic labourer, and the resources and laws which ultimately protected and safeguarded her well being. #SOCFilms #ShatteringtheSilence The whole film can also be viewed here: http://bit.ly/CheenaHuaBachpan Credits: Producer & Art Director: Kulsum Ebrahim Voice Over: Sarah Razi Khan Sound Design: Sameer Khan

A post shared by Sharmeen Obaid Chinoy Official (@sharmeenobaidchinoy) on

ملازمہ بچی پر مالک ظلم اور تشدد کرتے اور ایک روز سردی کی رات بچی کو گھر سے باہر نکال دیتے ہیں تاہم اس وقت پڑوس میں رہنے والی خاتون بچی کو اس حالت میں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دیتی ہے اورپولیس گھر آکر بچی کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور پھر عدالت میں بچی کا کیس چلتا ہے۔ بچی اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی روداد عدالت کے سامنے بتاتی ہے۔

عدالت بچی پر ہونے والے ظلم و جبر اور بچی کے بیان کے بعد ملزمان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 328 اے کے تحت مجرم قرار دیکر ایک سال قید کی سزا سنا دیتی ہے۔ بعدازاں بچی کو ایک ایس او ایس ولیج بھیج دیا جاتا ہے۔

شرمین عبید چنائے نے اپنے اس پوسٹ میں بتایا کہ یہ فلم ہمارے ملک میں سماجی مسائل کا سامنا کرنے والے بچوں کے حوالے سے ایک آگاہی ہے،اس فلم میں عوام کو حقیقی زندگی میں بچوں پرہونے والے ظلم اور اس ظلم کے خلاف بننے والے قانون کو سمجھانے کی کوشش کی گئی۔

x

Check Also

کم عمری میں ہی شہرت حاصل ہوگئی تھی، رابی پیرزادہ

کم عمری میں ہی شہرت حاصل ہوگئی تھی، رابی پیرزادہ

پاکستان کی معروف فنکارہ رابی پیزادہ نے کہا ہے کہ مجھے کم عمری میں ہی ...

%d bloggers like this: