مغربی بنگال میں سیاسی ہنگامے، انتخابی مہم محدود

بھارتی الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران حریف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں پرتشدد تصادم کے بعد انتخابی مہم کا دورانیہ ایک روز کم کر دیا۔

گزشتہ روز مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر امیت شاہ کی انتخابی ریلی کے دوران حریف سیاسی جماعت کانگریس کے رہنما سے تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہنگامہ آرائی کی صورت اختیار کر گیا۔

مذکورہ واقعے کے بعد الیکشن کمیشن نے دو افسران، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس، سی آئی ڈی انچارچ اور سیکریٹری داخلہ کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے بنگال کی 9 نشستوں کے لیے جمعہ کو ختم ہونے والی انتخابی مہم میں ایک روز کی کمی کرتے ہوئے اسے جمعرات کی رات 10 بجے سے روکنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے الیکشن کمیش کے فیصلے کو ’غیر اخلاقی، سیاسی طور پر جانبدار اور نامناسب‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم کو محدود کرنے سے متعلق فیصلے میں 24 گھنٹے کیوں انتظار کیا۔

ممتا بینرجی نے الزام لگایا کہ ’الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی دو انتخابی مہم ختم کرنے کا وقت فراہم کیا اور پھر مہم کا ایک دن کم کرنے کا اعلان کردیا‘۔

اس ضمن میں کانگریسی رہنما احمد پٹیل نے بھی ٹوئٹ میں الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’اگر بنگال میں صورتحال اتنی خراب ہو چکی تھی تو انتخابی مہم کو روکنے کے لیے الیکشن کمیشن نے اتنی تاخیر کیوں کی؟‘

خیال رہے کہ بھارت میں لوک سبھا (ایوان زیریں) کے 17 ویں انتخابات کے چھٹا مراحلہ دہلی اور 6 ریاستوں کی 59 نشستوں پر پولنگ کے بعد مکمل ہوگیا

ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 6 ہفتوں پر محیط طویل انتخابات کے چھٹے مرحلے میں جاری ووٹنگ میں 10 کروڑ 17 لاکھ سے زائد افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے 483 پر ووٹنگ کا عمل مکمل ہوجائے گا جس کے بعد دیگر 60 نشستوں پر انتخابات کا ساتواں اور آخری مرحلہ 19 مئی کو ہوگا۔

x

Check Also

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

افغانستان میں غیرملکی این جی او کےتحت چلنے والے درجنوں طبی مراکز طالبان نے بند ...

%d bloggers like this: