358رنز بنا کر بھی ہار

انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف 359رنز کا ہدف باآسانی عبور کرتے ہوئے تیسرے ون ڈے میچ میں 6وکٹوں سے فتح حاصل کر لی۔

برسٹل میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے ون ڈے میچ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا۔

مزید پڑھیں: محمد عامر وائرل انفیکشن کا شکار، ورلڈکپ اسکواڈ میں شرکت مشکوک

میچ کے لیے دونوں ٹیموں نے اپنی فائنل الیون میں تبدیلیاں کی ہیں جہاں پاکستان نے یاسر شاہ کی جگہ جنید خان کو ٹیم کا حصہ بنایا ہے جبکہ انگلینڈ نے جوز بٹلر اور عادل رشید کی جگہ ٹام کرن اور جو ڈینلی کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا ہے۔


پاکستان نے اننگز کا آغاز کیا تو گزشتہ میچ میں سنچری بنانے والے فخر زمان صرف دو رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

بابر اعظم نے کرس ووکس کو لگاتار دو چوکے لگائے لیکن تیسری گیند پر اپنی وکٹیں محفوظ نہ رکھ سکے اور 15رنز بنانے کے بعد پویلین سدھارے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے پلنکٹ کو ٹیمپرنگ کے الزام سے بری کردیا

اس کے بعد امام الحق کا ساتھ دینے حارث سہیل آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے موثر بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 69رنز جوڑے لیکن اس مرحلے پر غیر ذمے دارانہ رننگ کے نتیجے میں حارث کی اننگز تمام ہوئی، انہوں نے 41گیندوں پر اتنے ہی رنز بنائے۔

سرفراز احمد اور امام الحق نے چوتھی وکٹ کے لیے 62رنز جوڑے لیکن ایک غلط شاٹ کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم کے کپتان کی اننگز تمام ہوئی۔

اس کے بعد امام کا ساتھ دینے آصف علی آئے اور دونوں کھلاڑی شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچویں وکٹ کے لیے 125رنز کی شراکت قائم کی، آصف 52رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

امام الحق نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی چھٹی سنچری اسکور کی اور 151 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد پویلین لوٹے، ان کی اننگز میں 16چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

اختتامی اوورز میں پاکستانی ٹیم زیادہ تیز رفتاری سے رنز اسکور نہ کر سکی اور مقررہ اوورز میں قومی ٹیم نے 9وکٹوں کے نقصان پر 358رنز بنائے، عماد وسیم 22، فہیم اشرف 13 اور حسن علی نے 18رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس نے 4 اور ٹام کرن نے 2 وکٹیں لیں۔

ہدف کے تعاقب میں انگلش اوپنرز نے 17اوورز میں اپنی ٹیم کو 150رنز سے زائد کا آغاز فراہم کر کے میچ کو تقریباً یکطرفہ بنا دیا، انگلینڈ کی پہلی وکٹ 159رنز پر گری جب جیسن روئے 55گیندوں پر 76رنز بنانے کے بعد پویلین رخصت ہوئے۔

دوسرے اینڈ سے جونی بیئراسٹو نے جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور ون ڈے کرکٹ میں اپنی ساتویں سنچری مکمل کی۔

انہوں نے جو روٹ کے ہمراہ دوسری وکٹ کے لیے 75رنز جوڑے اور 5 چھکوں اور 15چوکوں سے مزین 128رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔

اسکور 278 تک پہنچا تو جو روٹ بھی 43رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئے لیکن اس وقت تک میچ کا فیصلہ ہو چکا تھا جبکہ اسٹوکس کی اننگز 37رنز پر تمام ہوئی۔

انگلینڈ نے 359رنز کا ہدف 31گیندوں قبل ہی باآسانی حاصل کر کے میچ میں 6وکٹ سے فتح حاصل کر کے سیریز میں بھی 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل کر لی۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

پاکستان: سرفراز احمد(کپتان)، فخر زمان، امام الحق، بابر اعظم، حارث سہیل، آصف علی، عماد وسیم، فہیم اشرف، حسن علی، جنید خان اور شاہین شاہ آفریدی۔

انگلینڈ،: آئن مورگن(کپتان)، جیسن روئے، جونی بیئراسٹو، جو روٹ، بین اسٹوکس، معین علی، جو ڈینلی، کرسس ووکس، ڈیوڈ ولی، ٹام کرن اور لیام پلنکٹ۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: