پاکستانی لڑکیوں سےشادی اور چین کی یقین دہانی

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستان میں چینی باشندوں کی گرفتاری سے متعلق میڈیا رپورٹس پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے متعلقہ حکام اس حوالے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ چین کی حکومت نے مذکورہ مسئلے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جو کہ قابل ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین سے ایک ٹیم نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا اور دفاعی اداروں کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ امور اور چین میں پاکستانی مشن موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور اس ضمن میں پاکستانیوں کو درپیش کسی بھی شکایت کے لیے فوری مدد فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کے سفارتخانے نے حالیہ تفتیش کا حوالہ دیا جس میں چین کی وزارت برائے پبلک سیکیورٹی نے مذکورہ معاملے کی تحقیقات کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق تحقیقات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ شادی کے بعد چین میں رہنے والی پاکستانی خواتین کو جبراً جسم فروشی پر مجبور کیا گیا یا ان کے اعضا فروخت کیے گئے ہوں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ’اس بیان کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ حساس نوعیت کے معاملے پر صرف حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی جائے‘۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ’وزارت خارجہ امور، حکومت کے متعلقہ محکمے اور حکام اور متعلقہ چینی حکام کسی بھی متاثرہ شخص کی شکایت دور کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں رہیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ذمہ داران کو انصاف کے دائرہ کار میں لایا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ ایسے واقعات مستقبل میں دوبارہ پیش نہ آئیں‘۔

واضح رہے کہ 8 مئی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسداد اسمگلنگ سیل نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے پاکستانی لڑکیوں کو جھانسہ دے کر شادی کرنے والے چینی گروہ کے مزید 14 افراد کو گرفتار کیا تھا جس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

گرفتار افراد کے قبضے سے 3 پاکستانی لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا تھا جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ انہیں شادی کا جھانسہ دے کر اسمگل کیا جانا تھا۔

اس سےقبل 6 مئی کو لاہور سے جسم فروشی کے لیے پاکستانی لڑکیوں سے شادی رچانے والے 8 چینی شہریوں کو گرفتار کیا تھا جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔

ایف آئی اے نے 2 مئی کو فیصل آباد سے 2 چینی باشندوں سمیت 4 افراد کو اسی طرح کے الزامات میں گرفتار کیا تھا۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: