گوادر پرل کانٹینینٹل پر حملہ

پاکستانی فوج کے مطابق گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہو گیا ہے جبکہ ہوٹل میں موجود مہمانوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے اور کلئیرنس آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری تحریری بیان کے مطابق فوج نے دہشت گردوں کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔

اپنے ابتدائی بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کو سکیورٹی فورسز نے ہوٹل کی اوپر والی منزل کی طرف جانے والی سیڑھیوں میں گھیرے میں لے رکھا ہے اور آپریشن جاری ہے۔

ہوٹل پر حملہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بجکر 40 منٹ پر کیا گیا۔

حملہ آورں کی تعداد تین بتائی گئی ہے جنھوں نے ہوٹل میں داخلے کی کوشش کی اور گارڈ کی جانب سے مزاحمت کرنے پر اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ہوٹل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بروقت ملٹری ایکشن نے حملے کو ناکام بنا دیا۔‘

پرل کانٹینینٹل ہوٹل کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ کیونکہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اس لیے ہوٹل کے کسی کمرے میں کوئی بھی مہمان موجود نہیں تھا اور ہوٹل میں عملے کی تعداد بھی بہت محدود تھی۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل کی عمارت میں سکیورٹی فورسز نے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے میر ضیا اللہ لانگو نے بتایا کہ حملے میں ہوٹل کے دو سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے ہیں جن کی لاشوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار سمیت دو افراد کو بھی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کے داخل ہوتے ہی ہوٹل کے الارم بجا دیے گئے تھے جس کے باعث ہوٹل میں موجود افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تاہم بعض افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ زخمیوں کی تعداد کتنی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہوٹل کو کلیئر کرنے کے بعد ہی یہ بتایا جا سکے گا کہ زخمیوں کی تعداد کتنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل میں چینی شہریوں سمیت کوئی بھی غیر ملکی شہری موجود نہیں تھا۔

میر ضیا اللہ نے کہا کہ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ حملہ آور سمندر سے یا کس راستے سے ہوٹل پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خود کش حملہ آوروں کے داخلے کے بارے میں اطلاعات تھیں لیکن گوادر میں کسی حملے کی اطلاع نہیں تھی۔

پی سی ہوٹل پر اس سے قبل بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔

گوادر پاکستان چین اقتصادی راہداری کا اہم مرکز ہے جہاں بڑی تعداد میں چینی انجنیئرز اور کارکن موجود ہیں ۔

گوادر انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

اس ضلعے کی سرحد مغرب میں ایران سے ملتی ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں کی طرح گوادر میں بھی بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں ۔

گذشتہ ماہ بھی ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں مسافر بسوں سے سکیورٹی فورسز کے 14 اہلکاروں کو اتار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

حملے کی ذمہ داری
بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے گوادر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مجید برگیڈ کے فریڈم فائٹرز نے پی سی ہوٹل میں گھس کر حملہ کیا جہاں چینی اور دیگر سرمایہ کاروں نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔‘

یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کی پہلی منظم عسکریت پسند تنظیم ہے جس نے اس سے قبل دالبندین میں چینی انجینیئرز کی بس پر خودکش حملہ، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ اور حالیہ دنوں میں یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔

مجید برگیڈ مجید بلوچ کے نام سے بنائی گئی ہے جس نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی۔

چینی قونصل خانے پر حملے کے بعد افغانستان میں بی ایل اے کے کمانڈر اسلم عرف اچھو ایک مشتبہ خودکش حملے میں ساتھیوں کے ہمراہ مارے گئے تھے، جس کے بعد بی ایل اے کی قیادت بشیر زیب نے سنبھالی ہے۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: