مودی بھارت میں تقسیم کے ذمہ دار

امریکی جریدے ‘ٹائم’ نے اپنے نئے شمارے میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘بھارت میں تقسیم کا ذمہ دار’ قرار دے دیا۔

جریدے نے امریکا کے علاوہ اپنے تمام شماروں میں نریندر مودی کی تصویر بھی شائع کی۔

جریدے میں ناول نگار آتش تاثیر کی لکھی گئی مرکزی اسٹوری کی شہ سرخی میں سوال اٹھایا گیا کہ ‘کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت مودی کی مزید پانچ سال حکومت سہہ سکے گی؟’

تاہم شمارے میں آئی این بریمر کے دوسرے مضمون میں نریندر مودی کا مثبت تاثر دیتے ہوئے کہا گیا کہ ‘اقتصادی اصلاحات کے لیے مودی، بھارت کی بہترین امید ہیں۔’

جریدے نے 2015 کے ایک شمارے میں بھی ‘مودی کیوں معنی رکھتے ہیں’ کے عنوان کے ساتھ نریندر مودی کی تصویر شائع کی تھی، جبکہ بھارتی وزیر اعظم کا انٹرویو بھی شائع کیا گیا تھا۔

آتش تاثیر نے اپنے مضمون کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ’ 2014 میں نریندر مودی نے الیکشن عوام کی امیدوں کی بدولت جیتا، لیکن اس بار جو کچھ بھی کہا گیا، امید کہیں نظر نہیں آرہی۔’

مضمون میں کہا گیا کہ 2014 میں نریندر مودی کا اقتدار میں آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ‘اصل میں ملک کی اشرافیہ جس بات پر یقین رکھتی ہے وہ آزاد خیال مگر ہم آہنگ ثقافت ہے جبکہ بھارت واقعی مذہبی قوم پرستی، مسلم مخالف جذبات اور گہرے نسلی تعصب کی ایک دیگ ہے۔

آتش تاثیر نے خواتین کے مسائل کے حوالے سے نریندر مودی کے ریکارڈ کو ‘داغ دار’ قرار دیا، انہوں نے ہندو انتہا پسند جماعت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریہ ساز ایس گورومُرتھی کی بھارتی ریزرو بینک میں تقرری پر بھی تنقید کی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کو زعفران کے چوغے میں نفرت پھیلانے والا گُرو قرار دیا۔

ناول نگار نے مالےگاؤں دھماکے کے ملزم براگیا سنگھ ٹھاکر کی لوک سبھا کے انتخابات میں بھوپال سے نامزدگی کو ‘شدید قوم پرستی اور جرائم کاری کا سایہ’ قرار دیا، جسے خود سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔

آتش تاثیر نے نریندر مودی کے نعرے ‘سب کا ساتھ سب کا وِکاس’ سے متعلق کہا کہ ‘کیونکہ بھارت میں رواں ماہ ووٹ ڈالے جارہے ہیں، ان الفاظ کی ستم ظریفی ختم نہیں ہو رہی۔’

مضمون میں مزید کہا گیا کہ ‘نریندر مودی کا معاشی معجزہ ناصرف عملی جامہ پہنائے جانے میں ناکام ہوا، بلکہ انہوں نے بھارت میں زہریلی مذہبی قوم پرستی کی فضا پیدا کرنے میں بھی مدد کی، بنیادی اقدار اور انسانیت میں اس حد تک بگاڑ آچکا ہے کہ نریندر مودی کشیدگی کی سمت کو مزید قابو نہیں کر سکتے۔’

x

Check Also

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

افغانستان میں غیرملکی این جی او کےتحت چلنے والے درجنوں طبی مراکز طالبان نے بند ...

%d bloggers like this: