سحری میں جگانے کیلئے لڑاکا طیاروں کا استعمال

انڈونیشین ایئر فورس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری روایت کے مطابق عوام کو سحری میں جگانے کے لیے لڑاکا طیاروں کی مشق میں حصہ لیں گے۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انڈونیشین فضائیہ نے کہا کہ لڑاکا طیاروں کی یہ مشق جاوا جزیرے کے متعددد شہروں میں کی جائے گی۔

انڈونیشی اخبار جکارتہ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’انشا اللہ، ہم جنگی جہازوں کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو سحری کے لیے جگانے کی روایت پر عمل کرتے رہیں گے‘۔

دوسری جانب ایئر فورس کے ترجمان کرنل سیس ایم یورث نے کہا کہ ’اس مشن کا مقصد محض روایت برقرار رکھنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فضائیہ کے اہلکاروں کو رمضان (روزے) کے درمیان تربیت نہ دی جائے‘۔

واضح رہے کہ صبح صادق کا وقت جنگی جہاز اڑانے کے لیے بہترین ہے، طبی ماہرین صبح 10 بجے تک اور اس کے بعد تربیت دینے کے خلاف ہیں جب روزہ رکھنے والوں کے خون میں شکر کی سطح گرنا شروع ہوجاتی ہے۔

فضائیہ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’لڑکا طیاروں کے پائلٹس کو اس وقت طیارہ اڑانے سے منع کیا جاتا ہے جب وہ ایسی حالت میں ہوں کہ ان کے خون میں شکر کی سطح کم ہو‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مشترکہ مشن ہے جس میں پائلٹس کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو سحری کے لیے بھی جگایا جائے گا۔

اس دوران لڑاکا طیارے نچلی سطح پر پرواز کرتے ہوئے آسمان میں اڑان بھریں گے اور پائلٹ آفٹر برنرز(طیاروں کے پچھلے حصے سے نکلنے والی آگ) کا استعمال کریں گے جس سے آواز پیدا ہوگی۔

خیال رہے کہ صبح صادق کے وقت تربیت دینے کا یہ عمل انڈونیشیا کی فضائیہ نے کئی سال پہلے شروع کیا تھا جس میں زیادہ تر ایف-16 اور T50i طیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

x

Check Also

جرمنی میں اڑن ٹیکسی کی پرواز کا تجربہ کامیاب

جرمنی میں جیٹ اڑن ٹیکسی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس ٹیکسی کو ایک ...

%d bloggers like this: