آرمی کا شادی ہال چلانے کا کیا جواز؟

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اٹارنی جنرل کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ یہ دستخط کیا کسی پٹے والے کے ہیں؟۔ سیکریٹری دفاع ان دستاویزات پر دستخط کریں۔ رپورٹ مبہم ہے۔
عدالت میں موجود سیکریٹری دفاع فوراً اٹھے اور دستاویزات پر دستخط کر دیئے۔ جسٹس گلزار نے پوچھا کہ عدالتی احکامات پر عمل کیوں نہیں ہوا؟۔ اٹارنی جنرل آگے بڑھے اور کہا کہ مجھے وضاحت کا موقع دیا جائے۔ آپ ہمیں وقت دیں سروے کرا لیتے ہیں۔
جسٹس گلزار نے کہا کہ آرمی کا شادی ہال چلانے کا کیا جواز بنتا ہے؟۔ آرمی کو کیا اختیار ہے کہ سرکاری زمین کسی فرد کے حوالے کر دے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ شادی ہال کے کرائے شہدا کے خاندانوں کو دیئے جاتے ہیں۔ جسٹس گلزار نے کہا ہمیں کیا پتہ یہ پیسے کہاں جاتے ہیں؟۔ مزید وقت نہیں دے سکتے۔ یہ 22 جنوری کا حکم ہے۔ حکومت کام کرنا چاہے تو 5 منٹ لگتے ہیں۔ بلڈوزر پہنچ جاتے ہیں اور جگہ صاف ہوجاتی ہے۔
معزز جج صاحب نے ریمارکس دیئے کہ لینڈ مافیا شہر میں منہ چڑا ہو رہا ہے۔ شادی ہال چل رہے ہیں، آپ نہیں ہٹائیں گے تو دوسرے کیسے عمل کریں گے؟۔ ہمیں پتہ ہے کون کیا کر رہا ہے، یہ کسی ایک پلاٹ کا معاملہ نہیں۔

سعید غنی کو توہین عدالت کا نوٹس
جسٹس گلزار نے کہا وزیر بلدیات کہتے ہیں میں عدالتی حکم پر عمل نہیں کروں گا۔ یہ لوگ عدالت سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے وزیربلدیات سندھ سعید غنی کی تقریر کا نوٹس لے لیا۔ وزیر بلدیات کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔
انہوں نے کہا کہ راشد منہاس پر شادی ہال، نیوی کے علاقے میں فیلکن مال بن گیا ہے۔ یہ سب ہٹانا پڑیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ جگہیں لیز ہیں وقت دیں۔

راشد منہاس روڈ سے منسلک تعمیرات روکنے کا حکم
سپریم کورٹ نے راشد منہاس روڈ سے منسلک 80 ایکڑ زمین پر تعمیرات فوری روکنے کا حکم دے دیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کو زمین فوری واگزار کرا کے تحویل میں لینے کا حکم بھی دے دیا۔
دوران سماعت جسٹس گلزار اور وکیل رشید اے رضوی میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ رشید اے رضوی نے کہا کہ آپ کسی کو نہیں سن رہے۔

چلیں تاریخ بدل دیتے ہیں، عدالت

جسٹس گلزار نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کو ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا اختیار نہیں۔ ڈی ایچ اے غلط بنا ہے، تو غلط ہے۔ میں تو کہیں بھی چھپرا ڈال کر رہ لوں گا۔ یہ ریٹائرڈ کرنل کون ہیں جو این او سی جاری کررہے ہیں۔
آپ کے پاس کیا قانون ہے؟۔ آرمی اتھارٹی سرکاری زمین کسی پرائیوٹ شخص کو کیسے دے سکتی ہے۔ آپ جو دستاویزات پیش کر رہے ہیں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
رشید اے رضوی نے کہا کہ آپ کور ہیڈ کوارٹر کو نوٹس کردیں۔ 72 سال کی تاریخ میں تو کسی نے نہیں پوچھا۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ چلیں آج تاریخ بدلتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو حکم دیا کہ آئندہ سیشن میں آئے تو ملٹری لینڈ کی زمینیں قبضے سے خالی ہوں۔
جسٹس گلزار نے واٹربورڈ کی زمین الاٹ کرنے پرریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہرادارے نے اپنی زمین ملازموں کو بانٹ دی ہے۔ عدالت نے گلوبل مارکی کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی۔ کہا کہ آپ کی کسی بھی درخواست اور دلائل میں کوئی مستند بات نہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کراچی میں 70 فیصد تعمیرات غیر قانونی ہیں۔ جتنے پارک تھے شہیدوں کے نام کردیئے گئے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا شہید کا تو بڑا رتبہ ہوتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا ہاں شہدا کا بڑا رتبہ ہوتا ہے، اللہ کرے ہم بھی شہید ہوجائیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا شہید کیلیے تو بڑی سخت شرائط ہیں۔ اس پر جج صاحب نے کہا آپ کا مطلب میں مارا جائوں تو شہید نہیں ہوں گا؟۔
سپریم کورٹ نے یونیورسٹی روڈ کی کھدائی پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ کہا ایک سال پہلے کارپٹنگ ہوئی تھی، روڈ دوبارہ کیوں اکھاڑ دیا۔ آپ لوگوں کا مسئلہ کیا ہے؟۔ روڈ توڑنے سے لاکھوں شہری متاثر ہورہے ہیں۔
میونسپل سروسز کے وکیل نے بتایا کہ کراچی الیکٹرک کی زیر زمین کیبل بچھائی جارہی ہے۔ جسٹس گلزار نے کہا پہلے کے الیکڑک کو کیوں خیال نہیں آیا؟۔
عدالت نے استفسار کیا کہ الہ دین پارک کے ساتھ پلازہ کس کا ہے اور کس کی زمین پر بن رہا ہے؟۔ کتنے پلازے بن رہے ہیں اور بنے ہی جارہے ہیں۔ الہ دین پارک کا کمرشل استعمال کیا جارہا ہے۔ پاس سے گزریں تو کراہت آتی ہے۔
ڈرائیو ان سینما ختم کردیا گیا، انتظامیہ نے نہیں روکا۔ اس جگہ پر اتنا بڑا پلازہ بن گا کہ اب سانس لینا بھی مشکل ہے۔

کراچی کا ماسٹر پلان طلب

مئیر کراچی وسیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ جوہر میں مال میں آگ لگی، رہائشی علاقہ ہونے سے مشکلات ہوئیں۔ جسٹس گلزار بولے جبھی آپ نے اپنا سیاسی جنازہ نکال لیا ہے۔۔
سپریم کورٹ نے ڈی جی کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے سوال کیا کہ ملیر روڈ کو آپ نے کیا بنایا؟ اس کا کیا کیا؟۔ آپ نے پورا شہر بیچ دیا، کتنا پیسہ چاہئیے؟۔ دبئی لندن میں پراپرٹی بنالی نہ وہاں رہ سکتے ہو۔ نہ کھا سکتے ہو نہ وہاں کا موسم یہاں لاسکتے ہیں۔ آپ نے طارق روڈ دیکھا سارا کچرا وہاں ڈمپ ہورہا ہے۔
کسی پلازے والے نے پارکنگ ایریا نہیں بنایا۔ شہر سے باہر نکلنے میں 3 گھنٹے لگتے ہیں۔ کراچی میگاسٹی کے معیار پر نہیں اترتا۔ روڈ سسٹم تباہ ہوگیا ہے۔
سپریم کورٹ نے 1950 سے اب تک کے تمام ماسٹر پلان طلب کرلیے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ میرے پاس کوئی ماسٹر پلان نہیں۔ ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کہاکہ ہمارے پاس ماسٹر پلان ہے۔
جسٹس گلزار نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ کس ماسٹر پلان میں کس کی ہدایت پر کب تبدیلی کی گئی؟۔ یہ بھی بتائیں کون سی رہائشی عمارت کو کب اور کس کے کہنے پر کمرشل کیا گیا؟۔
جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ حکومت نے ملیر ندی پر متبادل سڑک بنانے کا اعلان کیا تھا؟۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سڑک بنانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس طرح کی سڑک نہیں ہوگی جس طرح لیاری ایکسپریس وے بنایا گیا ہے۔
جج صاحب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے لیاری ایکسپریس وے بنانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا۔ لیاری ایکسپریس وے کا بھی ٹھیک سے استعمال نہیں ہورہا۔ جتنا خرچہ لیاری ایکسپریس وے پر ہوا اتنا اس فائدہ نہیں ہو رہا۔ میں بھی اکثر وہیں سے گزرتا ہوں سڑک پر ہرطرف سناٹا ہوتا ہے۔ اب تو لیاری ایکسپریس وے کی زمین پر بھی قبضہ ہورہا ہے۔
دو تلوار کے نزدیک ملٹری لینڈ پر کمرشل تعمیرات کے کیس میں اہل علاقہ سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ درخواست کی کہ دو ایکڑ رہائشی زمین کو تجارتی مقاصد کے لیے الاٹ کردیا گیا ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کل رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ یہ اوشین ٹاور بھی غلط بنا ہے۔ پہلے رہائشی عمارت تھی۔

کون نیب؟ کیا نیب؟

جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی افتخار قائم خانی پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ کہا آپ کورٹ سے جیل جائیں گے۔ ہم نے حکم دیا تھا کہ کراچی سے غیر قانونی تجاویزات ختم کرائیں۔ اس کا کیا ہوا؟۔ کاروائی کہاں تک پہنچی؟۔ بار بی کیو ٹو نائیٹ کے سامنے بنی دو غیرقانونی عمارتوں کا کیا ہوا؟۔
افتخار قائم خانی نے بتایا کہ بلڈنگ کے خلاف نیب کی انکوئری چل رہی ہے۔ جج صاحب نے کہا کیا نیب؟ کون نیب؟ کیا نیب سپریم کورٹ سے اوپر ہے؟۔ غیر قانونی تجاویزات کو ختم کریں یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اور اس پر عمل کریں۔
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کالونی اور دہلی کالونی میں آٹھ، آٹھ منزلہ عمارتیں بنائی جاتی ہیں لیکن وہاں نہ پانی ہوتا ہے نہ ہی لفٹ۔ زینب مارکیٹ سمیت پورے صدر میں غیر قانونی پارگنگ بنی ہوئی ہے۔
ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا صدر میں اب کارروائی کی ہے۔ اس پر جسٹس صاحب نے کہا کوئی کارروائی نہیں کی، میں روز صدر جاتا ہوں، دیکھتا ہوں صدر میں کیسی غیر قانونی پارکنگ ہے۔ آپ کب کاروائی کریں گے؟۔ کب نیند سے اٹھیں گے؟۔
سپریم کورٹ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو کراچی بھر سے غیرقانونی تجاوزات فوری ختم کرانے کا حکم دے دیا۔ تجاوزات ختم نہ ہونے پر جسٹس گزار نے کہا کہ کراچی کو دیکھ کہ رونہ آتا ہے کہ اس شہر کا کیا بنے گا؟ لگتا ہے جب لوگ کی برداشت سے باہر ہوگا تو بہت بڑا فساد ہوگا۔ کراچی میں داخل ہوتے ہی فلک ناز پلازہ پر نظر پرتی ہے جو سرکاری زمین پر قائم ہے۔

پی آئی اے کے شادی ہال گرانے کا حکم

سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے شادی ہالز پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ ریمارکس دیئے کہ آپ سے جہاز چل نہیں پاتے اور نکلے ہیں شادی ہال بنانے؟۔
پی آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ شادی حال گرائیں نہیں۔ نوٹس بھیج دیئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آج ہی پی آئی اے زمین سے غیر قانونی شادی ہال اور تجاوزات ختم کریں۔ فوری طور پر تجاوزات ختم کریں۔

سرکلر ریلوے ایک ماہ میں چلانے کا حکم

سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کو بھی ایک ماہ میں چلانے کا حکم دے دیا۔ سیکریٹری ریلوے کو حکم دیا ک ریلوے اراضی سے ہر حال میں دو ہفتے میں تجاوزات ختم کریں۔ آپ کو معلوم نہیں ہمارا کیا حکم تھا؟۔ ابھی تک عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟۔ سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری کو میئر کراچی اور دیگر حکام کے ساتھ مل کر آپریشن کرنے کا حکم دے دیا۔
سیکریٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ متاثرین کی نشاندہی ہوگئی ہے، ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ جسٹس گلزار نے پوچھا کہ یہ ریلوے کی زمین پر سوسائٹیز کیسے بن گئیں؟۔ سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ ہم ان سوسائٹیز کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں اس حوالے سے کیس بھی چل رہا ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم ابھی سندھ ہائی کورٹ کے آرڈرز ختم کردیں گے۔
عدالت نے کہا کہ کراچی اب روشنیوں کا شہر نہیں رہا۔ کراچی کا شہری نظام تباہ ہو چکا ہے ۔ کراچی میں بیٹھے لوگ نااہل ہیں۔ یہ لوگ صرف اپنے ذاتی مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ تمام اداروں کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں، اس سے پہلے صورتحال مزید بدتر ہوجائے۔

ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ طلب


سپریم کورٹ نے کراچی کی سڑکوں پر قائم چوکیوں پر ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کر دیا۔ آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سندھ کو بھی طلب کرلیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ تھانوں، چوکیوں اور دفاتر کی تمام تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔ میونسپل کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمان نے عدالت میں رینجرز اور پولیس چوکیوں کی شکایت کی تھی۔
سپریم کورٹ نے کراچی کے فٹ پاتھوں پر قائم تجاوزات ختم کرنے کا حکم پھر دے دیا۔ فلاحی تنظیموں کے بوتھوں ہٹانے کی بھی ہدایت کردی۔ سول اسپتال، جناح اسپتال اور عباسی شہید اسپتال کے گرد قائم تجاوزات بھی فوری ہٹانے کا حکم سنا دیا۔

وفاق کراچی میں کیسے گھس آیا؟

جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ یہ کے آئی ڈی سی ایل کیا ہے؟۔ نمائندے نے آگاہ کیاکہ یہ وفاق کی کمپنی ہے جو شہر میں وفاقی منصوبوں کی تکمیل کےلئے بنائی گئی ہے۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ آپ لوگ کیسے کراچی میں گھس آئے؟۔ کیا کوئی کراچی سے جاکر اس طرح اسلام آباد میں گھس سکتا ہے؟۔ کیا کوئی اسلام آباد میں بغیر وہاں کی انتطامیہ کی مرضی سے کوئی کام کر سکتا ہے؟۔
عدالت نے وسیم اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مئیر صاحب یہ جہانگیر روڈ ،لائنز ایریا کب ڈویلپ ہوں گے۔ میئر کراچی نے کہا کہ یہ جگہیں میرے انڈر میں نہیں آتی ہیں۔ یہ جگہیں کے ڈی اے کی ہیں۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا ڈی جی صاحب آپ نے مزار قائد کے سامنے فلائی اور کیسے بنانے دیا؟۔ آپ کو قائد اعظم کے مزار کی اہمیت کا بھی پتہ ہے۔ دنیا کا ہر بڑا آدمی وہاں آتا ہے۔
شاہراہ قائدین کی حالت دیکھیں، نام کیا رکھا ہے اور حالت کیا ہو رہی ہے۔ یونیورسٹی روڈ کی حالت دیکھیں، سوک سنٹر کے چاروں طرف پارک بنائیں۔
سرکاری دفاتر میں دیکھیں کیا ہورہا ہے؟۔ گاو تکیے لگا کر پان دان ساتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ صبح گھر سے سرکاری دفتر آتے ہیں، شام کو چلے جاتے ہیں۔ لوگ ان کے تکیے کے نیچے پیسے رکھ دیتے ہیں کہتے ہیں، ٹھیک ہے۔
میں اِنکم ٹیکس کے دفتر میں ایسا دیکھا تھا، پھر کبھی اِنکم ٹیکس کی وکالت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
عدالت نے آئندہ سیشن میں سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین سے متعلق رپورٹ آئندہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

x

Check Also

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا ایک اور افسر گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا ایک اور افسر گرفتار

بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرنے والے کراچی پولیس کے ...

%d bloggers like this: