پروفیسر پر طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام

سندھ یونیورسٹی جامشورو میں پھر طالبات اور خواتین اساتذہ کو جنسی ہراساں کرنے کا ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا۔ انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ سائنس کے پروفیسر پر طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا گیا۔
انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ سائنس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر رابیہ میمن نے وائس چانسلر کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر عبدالجبار پیرزادہ طالبات کو دوستی رکھنے کے لیے تنگ کرتے ہیں۔ کئی بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئی ہیں لیکن وہ طالبات کو آفیس میں بلا کر دوستی رکھنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔
ڈاکٹر رابیہ میمن کے مطابق پروفیسر عبدالجبار پیرزادہ خواتین اساتذہ کو بھی ہراساں کرتے رہے ہیں۔ طالبات کی طرف سے تحریری شکایات پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی لیکن کچھ نہیں ہوا۔
پروفیسر عبدالجبار پیرزادہ نے الزامات کو جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رابیعہ میمن نے انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ سائنس میں تین کروڑ روپے کی کرپشن کی۔ وائس چانسلر اور گورنر کو خطوط لکھے کہ تکنیکی سامان کی خریداری میں کرپشن ہوئی ہے۔
پروفیسر جبار پیرزادہ کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر نے کرپشن کی انکوائری کے لئے کمیٹی تشکیل دی تو رابیعہ میمن نے ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا۔

x

Check Also

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا ایک اور افسر گرفتار

بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا ایک اور افسر گرفتار

بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کرنے والے کراچی پولیس کے ...

%d bloggers like this: