آسیہ بی بی کیس: سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا

توہین رسالت کیس، آسیہ بی بی کی اپیل پرسپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے توہین رسالت کے الزام میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست کی دو سال بعد سماعت کی جس میں فریقین سے سوالات کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

نامہ نگار عابد حسین کے مطابق خصوصی بینچ کے سامنے دوپہر میں شروع ہونے والی سماعت تقریباً تین گھنٹے جاری رہی جس میں پہلے آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک سے سوالات کیے گئے۔

وکیل صفائی سیف الملوک نے بتایا کہ جون 2009 میں پیش آنے والے واقعے میں آسیہ بی بی اور دو مسلم خواتین میں مباحثہ ہوا جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے آسیہ بی بی کے برتن سے پانی پینے سے انکار کردیا تھا، تاہم مسلم خواتین کے بیانات میں تضاد ہے۔

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ آپ نے ان تضادات پر جرح کیوں نہ کی۔

آسیہ بی بی کے وکیل نے کہا کہ گواہوں نے آسیہ بی بی کے مبینہ توہین رسالت کے بیان پرگواہی نہیں دی بلکہ فالسے کے کھیت میں پیش آنے والا واقعہ بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے خلاف ان کے گاؤں کے امام مسجد نے واقعہ پولیس میں درج کرایا جبکہ ایف آئی آر کے مطابق آسیہ نے توہین مذہب کا اقرار کیا۔ وکیل صفائی نے کہا کہ ڈی سی او، ڈی پی او سے ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت نہیں لی گئی۔

اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال اٹھایا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی گواہ امام مسجد براہ راست گواہ نہیں کیونکہ ان کے سامنے توہین آمیز الفاظ استعمال نہیں کیے گئے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی کہا کہ امام مسجد کے بیان کے مطابق آسیہ بی بی کے مبینہ توہین آمیز کلمات کے بارے میں پنچایت ہوئی جس میں ہزاروں افراد کے شرکت کرنے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن وہ مکان بمشکل پانچ مرلے کا تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال اٹھایا کہ ایسا کیا ہوا کہ جھگڑا بھی آپ کے ساتھ ہوا، سخت الفاظ بھی آپ کے خلاف استعمال ہوئے اور پھر مقدمہ بھی آپ کے خلاف ہی بنایا گیا۔

وکیل صفائی سیف الملوک نے کہا کہ واقعے کی تفتیش ناقص اور بدنیتی پر مبنی تھی۔

دوسری جانب مقدمہ دائر کرنے والے قاری سلام کے وکیل غلام مصطفیٰ چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ آسیہ بی بی نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جس کا انھوں نے اعتراف بھی کیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے کیسز کو بین الاقوامی شہرت ملتی ہے۔

وکیل استغاثہ نے متعدد بار توہین رسالت کے بارے میں مذہبی حوالے دینے کی اجازت طلب کی لیکن عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں مقدمے کی شہادتوں کی صحت کے بارے میں ثبوت پیش کرنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے بیانات میں بہت تضاد ہے۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اس پر میڈیا میں تبصرے نہیں ہونے چاہیئں۔

وکیل استغاثہ چوہدری غلام مصطفیٰ نے سماعت کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ اس سوال پر کہ اگر فیصلہ اُنکے خلاف آیا تو اس صورت میں ان کا اگلا قدم کیا ہوگا، جس پر اُنکا کہنا تھا کہ وہ تمام قانونی راستے استعمال کریں گے۔

آسیہ بی بی پر کیا الزامات ہیں اور اب تک کیا قانونی کارروائی ہوئی ہے؟
آسیہ بی بی کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے اور اگلے برس سنہ 2010 میں انھیں اس مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اکتوبر 2016 میں مجرمہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں آخری دفعہ سنی گئی تھی لیکن اُس تین رکنی بینچ کے ممبر جج اقبال حمید الرحمن نے کہا کہ کیونکہ وہ ماضی میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں اور آسیہ بی بی کا مقدمہ بھی اسی سے منسلک ہے اس لیے وہ اس کی سماعت نہیں کر سکتے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی پر جون 2009 میں توہین رسالت کی شق -C295 کے تحت الزام لگا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف ’تین توہین آمیز‘ کلمات کہے تھے۔

استغاثہ کے مطابق اس واقعے کے چند روز بعد آسیہ بی بی نے عوامی طور پنچایت میں خود پر لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کی تھی اور معافی طلب کی تھی۔

اگلے سال ٹرائل کورٹ نے آسیہ بی بی کو سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی۔ چار سال بعد اکتوبر 2014 میں عدالت نے سزا کی توثیق کی تھی لیکن آسیہ بی بی نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس میں موت کی سزا کو چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف درخواست پر ابتدائی سماعت جولائی 2015 میں کی تھی اور ان کی اپیل کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اپیل پر حتمی فیصلہ تک سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

اکتوبر 2016 میں بینچ ٹوٹنے کے بعد اپریل 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ جلد توہینِ رسالت کے الزام میں موت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل کو سماعت کے لیے جلد تاریخ مقرر کرے گی۔

آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کے ثبوت کیا ہیں؟
سات گواہان کے بیانات کی روشنی میں آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے دو مرکزی گواہان وہ دو عورتیں ہیں جو آسیہ بی بی کے ساتھ کھیتوں میں کام کر رہی تھی۔

ان دونوں خواتین نے آسیہ بی بی کی جانب سے ادا کیے گئے مبینہ توہین آمیز کلمات کے بارے میں مقامی شخص قاری محمد سلام کو اطلاع دی جس نے پولیس میں رپورٹ کرائی۔

پولیس کے تین کانسٹیبل جنھوں نے اس کیس کی تفتیش کی اور ایک اور مقامی شخص جس نے دعویٰ کیا تھا آسیہ بی بی نے عوامی طور پر اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق کی ہے۔

آسیہ بی بی کا دفاع کیا ہے؟
اپنے بیان میں آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ ان کا اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے ساتھ پینے کے پانی کے گلاس کے حوالے سے جھگڑا ہوا تھا جب ان دونوں نے مبینہ طور پر اس لیے پانی پینے سے انکار کیا کہ آسیہ بی بی مسیحی ہیں اور اس کے بعد سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا تھا۔

آسیہ بی بی نے الزام لگایا کہ دونوں خواتین نے جھوٹی کہانی گھڑی ہے اور قاری سلام کو شامل کیا جس کی بیوی ان دونوں کو قرآن کی تعلیم دیتی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ پیغمبر اسلام کی بہت عزت کرتی ہیں اور انھوں نے کوئی بھی توہین آمیز کلمات نہیں ادا کیے۔
آسیہ بی بی مقدمے پر عالمی نظر
واضح رہے کہ آسیہ بی بی پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں۔ وکلا کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہC 295 کے تحت کسی مقدمے کی سماعت کی ہو۔

آسیہ بی بی کے اس مقدمے پر پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی نظریں مرکوز ہیں۔

پاکستان میں توہین مذہب کا قانون ایک حساس معاملہ ہے۔ ماضی میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور اقلیتوں کے وزیر شہباز بھٹی کو اس قانون میں ترمیم اور آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے پر قتل کیا جا چکا ہے۔

سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کو سزائے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد ان سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی کو بے گناہ قرار دیا تھا اور تجویز دی تھی کہ توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کی جائے۔

آسیہ بی بی سے ملاقات کے کچھ عرصے بعد ہی سلمان تاثیر کو ان کے اپنے محافظ نے اسلام آباد میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا اور اپنے اس اقدام کی وجہ سلمان تاثیر کے توہینِ رسالت کے قانون کے بارے میں بیان کو قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ سابق پوپ بینیڈیکٹ نے بھی عوامی طور پر آسیہ بی بی کی معافی کے لیے درخواست کی تھی۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: