صوبائی حکومتیں نگراں سیٹ اپ لانے میں آخری روزتک ناکام

عام انتخابات  سر پر آگئے لیکن صوبائی حکومتیں نگران سیٹ اپ لانے میں ناکام ہیں ۔ صوبوں میں نگراں وزیراعلیٰ کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ آج رات بارہ بجے تک کسی نام پر اتفاق نہ ہوا تو کل معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔

پنجاب

پاکستان تحریک انصاف نے یوٹرن لیتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے لیےاپنا ہی تجویزکردہ نام واپس لےلیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمودالرشید نے مختصرپریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ناصر کھوسہ کا نام جلد بازی میں طے کیا تھا۔ نیانام عمران خان کی مشاورت سے دیں گے،پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ناصر محمود کھوسہ کا بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب نام واپس لیا جائے۔ محمودالرشید کے مطابق طارق کھوسہ اور ناصر کھوسہ کے نام میں غلط فہمی ہوئی۔

سما کے پروگرام میں اینکرشہزاد اقبال نے بتایا کہ نام واپس لینے سے پہلے پی ٹی آئی نے ناصر کھوسہ سے خود دستبردار ہونے کی درخواست کرتےہوئے کہا کہ آپ خود پیچھے ہٹ جائیں، ہم نے آپکا نام نیک نیتی سے دیا لیکن سوشل میڈیا پر منفی ردعمل آیا جو یہ تاثر دیتا ہے کہ آپ شریف فیملی کے قریب ہیں۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ کے نام پرمزید مشاورت نہیں ہوگی۔نیک نیتی سے اپوزیشن سے مشاورت کی جس کے بعد حکومت سمری تیار کرتی ہے اور آئین سمری واپس لینے کی اجازت نہیں دیتا ۔

جبکہ اپوزیشن لیڈران باتوں کو گمراہ کن قرار دے رہے ہیں۔ محمودالرشید کا کہنا ہے کہ انہوں نے دستخط ہی نہیں کئےتو سمری کیسے تیار ہوگئی۔

سندھ

سندھ حکومت اور اپوزیشن میں تاحال نگراں وزیراعلیٰ کے معاملے پر بات نہ بن سکی۔ اٹھائیس مئی کے بعد اپوزیشن اورحکومت کے درمیان کوئی رابطہ بھی نہ ہوا۔سندھ حکومت اور اپوزیشن نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے 10 نام دیے ہیں جن پر آج رات 12 بجے تک بھی کوئی پیشرفت نہ ہوئی تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی دیکھےگی۔

بلوچستان

بلوچستان میں نگراں وزیراعلیٰ کے معاملے پر بھی حکومت اور اپوزیشن میں تعطل برقرار ہے اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا امکان ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں وزیرداخلہ سرفرازبگٹی نے انتخابات اگست تک آگے بڑھانے کی قرارداد بھی جمع کرادی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جولائی میں مون سون بارشیں ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے چلے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا میں بھی نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان منظور آفریدی کے نام پر ڈٹ گئے جبکہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک سابق بیوروکریٹ حمایت اللہ خان کی نامزدگی کیلئے متحرک ہیں ۔ یہاں بھی معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا امکان ہے جبکہ حکومت پرامید ہے کہ معاملہ حل ہو جائے گا۔

اس سے قبل خیبرپختونخوا نے سب سے پہلے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے منظور آفریدی کے نام پر اتفاق کیا تھا جس پر اپوزیشن کے تحفظات سامنے آنے کے بعد نام واپس لے لیا گیا لیکن اب اپوزیشن لیڈر پھر سے منظور آفریدی کے نام پر ہی اصرار کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخواکے نگران وزیراعلی کے لئے نیا نام سامنے آگیا ہے۔ سابق چیف سیکرٹری اعجازقریشی کے نام پر اتفاق پیداکرنے کے لئے مذاکرات جاری ہیں۔ اعجازقریشی گندھاراہندکوبورڈ کے سابق چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

بجٹ 2022ء کی باریکیاں

بجٹ پیش ہونے کے بعد مِلا جُلا عوامی ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ ...

%d bloggers like this: