سیاست سے آوٹ کرنے کے خواہشمند خود آئوٹ ہوجائینگے

مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں نے کہاہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کو دیوار میں چننے کی خواہش دل میں ہی رہ جائیگی، سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایکٹ 2017 تو منسوخ کیا جاسکتا ہے مگر نواز شریف کو عوام کے دلوں سے نہیں نکالا جاسکتا، انہیں سیاست سے آوٹ کرنے کے خواہشمند خود آئوٹ ہوجائینگے، عدالتی فیصلے کے باوجودپارٹی قیادت نوازشریف کےپاس رہیگی،پہلے گھبرائے تھے نہ اب گھبرائیں گے، سینیٹ الیکشن وقت پرہونے چاہئیں، جس کو نواز شریف چاہیں گے،وہی ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹر بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار سعد رفیق، مریم اورنگزیب، طلال، مشاہداللہ، پرویزرشید، راجہ ظفرالحق اور امیر مقام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہاکہ حکومت اس کی ہے جو عوام کے دلوں میں بس رہا ہے ،پہلے گھبرائے تھے نہ اب گھبرائیں گے۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے نواز شریف مائنس نہیں ہوگا۔ سیدھی طرح کہا جائے کہ نواز لیگ کو انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیں گےکیونکہ نواز شریف کو ہرانے کیلئے سیاسی طریقے کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اہم ادارہ ہے، پارلیمنٹ آئین بناتی ہے وہ جو چاہے تبدیلی کر سکتی ہے، لیکن اگر پاکستان میں نیا سسٹم لانا ہے تو الگ بات ہے۔ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ فیصلے نواز شریف کو نقصان نہیں پہنچا رہے بلکہ ان کے بیانیے کو بڑھا رہے ہیں، جس کو نواز شریف چاہیں گے،وہی ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹر بنے گا۔وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ ایسا ہی فیصلہ آئے گا۔ تمام فیصلے ایک کمزور فیصلے کے دفاع میں آ رہے ہیں، ن لیگ کے فیصلے نواز شریف ہی کرینگے۔ سینیٹ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں، سینیٹ الیکشن ملتوی ہونا کسی کےمفاد میں نہیں ہوگا۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہاکہ نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے قائد اور رہبرہیں، ان کی رہنمائی میں ملک کی خدمت کرنے کیلئے کسی عدالتی فیصلے کی ضرورت نہیں، مسلم لیگ (ن) اسی لائن پر چلے گی جس کا فیصلہ نواز شریف کریں گے۔پارٹی ٹکٹ کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے فیصلے نواز شریف کرینگے، پارٹی میں رہنے کیلئےپارٹی قائد کے فیصلے کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ توقع کے عین مطابق ہے۔ عدالتی فیصلہ کچھ بھی ہو ،ہمارا قائد نواز شریف ہے۔ وہی ہمارا رہبر، قائد اور نجات دہندہ ہے۔ عدالتی فیصلے سے نواز شریف کی مقبولیت ڈبل ہوگئی ہے۔ پرویز رشید نے کہا کہ عوام آئندہ انتخابات میں ن لیگ کو دو تہائی اکثریت دیں گے۔ ان کا اب اگلا ٹارگٹ ن لیگ کو توڑنا ہوگا مگر ناکام رہیں گے۔ راجہ ظفرالحق نے’جنگ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ نواز شریف ہی کے پاس رہے گی۔ عوامی مینڈیٹ کی حامل قیادت کو سیاست سے آئوٹ نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں ، ن لیگ کو دیوار سےلگانے کی سازش ہرگز کامیاب نہیں ہوگی۔شہبازشریف یا کسی اور کو نواز شریف کی جگہ صدر بنانے کا فیصلہ مل بیٹھ کر ہی ہوگا۔ سینٹ انتخابات کے حوالے سے راجہ ظفرالحق نے کہاکہ تفصیلی فیصلے سے صورتحال واضح ہوگی۔دریں اثناء وزیر اعظم کے مشیر و مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ن لیگ کے قائد تھے ہیں اور رہیں گے، ان کیخلاف فیصلوں سے نوازشریف کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے اور انکے بیانیہ کو تقویت مل رہی ہے، نواز شریف بہت جلد پارٹی کے نئے صدر کا انتخاب کریں اس سے مسلم لیگ ن پر کوئی فرق نہیں پڑیگا، میٹھائیاں بانٹنے والے خوش نہ ہوں، ان کو منہ کی کھانی پڑیگی۔وہ نوشہر میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ امیر مقام نے کہا کہ 2018کے انتخا با ت میں مسلم لیگ(ن) وفاق چاروں صوبوں میں کلین سیویپ کریگی، آصف علی زرداری، عمران خان اور شیخ رشید مسلم لیگ ن کے صدر نہیں بن سکتے۔ امیر مقام نے کہا کہ آج کے فیصلے سے نوازشریف اور مسلم لیگ ن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

بجٹ 2022ء کی باریکیاں

بجٹ پیش ہونے کے بعد مِلا جُلا عوامی ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ ...

%d bloggers like this: