پاکستان کی پہلی دوا عالمی ادارہ صحت کی فہرست میں شامل

پاکستان کی پہلی دوا ’’موکسی فلوکساسین‘‘عالمی ادارہ صحت کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے۔ گیٹز فارماپرائیویٹ لمیٹڈکے ‘سی ای او خالد محمود کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی عالمی دوائیوں کے ٹینڈرز میں بھی بولی لگانے کی اہل ہوچکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، پاکستان کی فارمیسی صنعت میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور پاکستان کی پہلی ڈرگ کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تسلیم کرلیا ہےجس سے پاکستان کی ڈرگ برآمدات میں اضافہ ہوگاجو فی الوقت صرف 11کروڑ ڈالرز ہے۔
Pakistan-drugs_L3
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کراچی کی گیٹز فارما پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنائی جانے والی موکسی فلوکساسین ہائڈرو کلورائیڈ 400ملی گرام کواس کے عالمی ماہرین کی ٹیم نے تفصیلی معائنے کے بعدقابل قبو ل مصنوعات میں شامل کرلیا ہے۔ مذکورہ دوا تپ دق کے مرض میں استعمال کی جاتی ہے۔
پاکستان میں دوا تیار کرنے والی 450 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں تاہم یہ پہلی دوا ہے جسے عالمی ادارہ صحت نے تسلیم کیا ہے۔پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے (ڈراپ) کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت بھارت کی 100سے زائد دوائوں جب کہ بنگلا دیش کی 6دوائوں کو تسلیم کرچکا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، ان کی معائنہ تیم گیٹز فارما میں فراہم کردہ سہولیات، جس میں دوائوں کا معیار، پیداواری یونٹس، کوالٹی کنٹرول، صفائی ستھرائی اور صحت عامہ کا نظام فارمیسی مصنوعات کے لیے بہتر ہے۔
Pakistan-drugs_L2
پاکستان کی فارمیسی صنعت 1959سے کام کررہی ہےاور یہاں مقامی کاروباری کمیونٹی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے تقریباً 600 دوا تیاری کے یونٹس قائم کیے ہیں تاہم گزشتہ ہفتے تک کسی ایک بھی دوا کو عالمی ادارہ صحت نے قبل از اہل دوا کا درجہ نہیں دیا تھا جبکہ بنگلا دیش اور اردن جیسے پڑوسی ممالک کی بہت سی کمپنیوں کی دوائوں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہےتاہم اہم پاکستان بھی اس میں شامل ہوگیا ہے۔
گیٹز فارما نے موکسی فلوکساسین کی اہلیت سے متعلق ڈوزیئر 2برس قبل عالمی ادارہ صحت کے پاس جمع کرایا تھاجس کے تفصیلی معائنے کے بعد عالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے اگست 2017 میں آگاہ کیا گیا تھا، جب کہ گزشتہ ہفتے اسے قبل از اہل کا درجہ دے دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: