نقیب قتل، اہم پولیس افسر 2 اہلکاروں سمیت گرفتار

نقیب قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوگئی، پولیس افسر 2 اہلکاروں سمیت گرفتار کرلئے گئے، حراست میں لئے گئے افراد میں ایک اے ایس آئی اور 2 سپاہی شامل ہیں۔

نمائندہ سماء کے مطابق کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں قتل کئے گئے نقیب اللہ کیس میں پہلی گرفتاری عمل میں آگئی، راؤ انوار کی ٹیم کا اہم رکن اے ایس آئی اکبر ملاح 2 پولیس اہلکاروں رئیس اور عمران سمیت حراست میں لے لیا گیا

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا ہے کہ راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو کسی کے حکم کی ضرورت نہیں، امکان ہے کہ برطرف ایس ایس پی ملیر کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کو کراچی کے علاقے ملیر میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا تھا، معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا تو راؤ انوار کیخلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور انہیں عہدے سے برطرف کردیا گیا، تحقیقات میں پولیس مقابلہ جعلی ہونے کی تصدیق ہوگئی، راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ سماء

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: