منو بھائی ، چند یادیں چند باتیں

تحریر: محمد زابر سعید بدر

اس کائنات کا سب سے بڑا سچ اگر کوئی ہے تو وہ موت ہے، اس سے بڑی حقیقت نہ کوئی تھی، نہ ہے اور نہ ہی ہو سکتی ہے، کیسے کیسے ہیرے لوگ مٹی ہو گئے، کیسے کیسے شہنشاہ جن کے کروفر کے سامنے کسی کی مجال نہ ہوتی تھی کہ وہ سانس لے سکے موت کو وہ بھی نہ ہرا سکے۔

دو ماہ قبل لاہور میں ڈاکٹر صغرا صدف نے اپنے ادارے پلاک میں مدعو کر رکھا تھا، اس موقع پر اسٹیج پر منو بھائی کو وہیل چیئر پر دیکھ کر دل کو دھچکا سا لگا کیونکہ جنگ لاہور کے دفتر میں ان کو ہمیشہ چاک و چوبند اور سوٹڈ بوٹڈ ہی دیکھا تھا، والد گرامی محترم سعید بدر کے قریبی دوست ہونے کی وجہ سے مجھ پر ہمیشہ شفقت فرماتے تھے۔

پلاک میں ملاقات کے وہ چند پل جن میں انہوں نے اپنے کمزور اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ میرے گالوں پر پیار کیا اور خیریت دریافت کی ہمیشہ کے لیے یادگار بن گئے کیونکہ اب منو بھائی کبھی میرے گالوں کو محبت سے نہیں سہلائیں گے، وہ بہت کمزور اور ناتواں ہو چکے تھے اور ان کی آواز میں لکنت تھی لیکن محبت نے لکنت کو ہرا دیا، ان کے لہجے میں شفقت، محبت اور جوش کا ملاجلا امتزاج تھا۔

گزشتہ روز ریواز گارڈن میں ان کی رہائش گاہ کے باہر ہزاروں افراد ان کے آخری دیدار کے لیے جمع تھے، ان میں گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، قمر الزمان کائرہ، مسعود اشعر، ڈاکٹر مہدی حسن، توقیر ناصر، امجد اسلام امجد، فرخ سہیل گوئیندی، افتخار مجاز، قیوم نظامی، اصغر ندیم سید، ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم، نوید چوہدری، راشد محمود، سہیل وڑائچ، حسن نثار، سلمان رفیق، شعیب بن عزیز، خالد چوہدری، عابد حسن منٹو اور عاصم بخاری نمایاں ہیں۔

اس موقع پر شعیب بن عزیز نے بتایا کہ منو بھائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک اخبار سے ملازمت کا آغاز کیا لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اس سے پہلے انفارمشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کر چکے تھے، بیماری کے گزشتہ پانچ ماہ سے وہ بستر پر تھے، چند دن پہلے انہوں نے فرخ سہیل گوئیندی سے کہا کہ یار پانچ ماہ سے بستر پر ہوں زندگی بھر کبھی اتنا نہیں لیٹا، یا ر کیاکروں۔

آخری ایام میں زندگی سے بھرپور یہ شخص تنہائی کا شکار تھا، ہمارا المیہ ہے کہ جب انسان رخصت ہو جاتا ہے تو ہم اس کو چند روز یاد کر لیتے ہیں لیکن جب وہ بڑھاپے یا بیماری کے ہاتھوں لاچار اور بے بس اپنوں کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو وہ تنہا ہوتا ہے۔

چھ فروری 1933 کو پیدا ہونے والے منیر احمد قریشی کو منو بھائی کا قلمی نام جناب احمد ندیم قاسمی نے عطا کیا جو اس وقت امروز کے ایڈیٹر تھے، منو بھائی کو اسلم اظہر ٹی وی ڈرامہ نویسی کی طرف لائے، سونا چاندی، جزیرہ، جھوک سیال، دشت، عجائب گھر، تالیاں اور جلوس ان کے مشہور ڈرامے ہیں۔

انہوں نے بہت کمال کے تراجم بھی کیے، 2007 میں ان کو تمغہ حسن کاکردگی سے نوازا گیا، 2014 میں انہوں نے اپنی ڈیرھ لاکھ کتابیں گورنمنٹ کالج، لاہور لائبریری کو عطیہ کر دیں، اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ وہ لاہور کی شان تھے، اللہ کریم ان کو جنت میں بلند مرتبہ و مقام عطا فرمائے (آمین)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

امیتابھ کی فلم سیٹ پر کھلونا بائیک چلانے کی تصاویر وائرل

امیتابھ کی فلم سیٹ پر کھلونا بائیک چلانے کی تصاویر وائرل

بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن نے سیٹ پر کچھ تفریحی لمحات کی ایک جھلک ...

%d bloggers like this: