راؤ انوار کا نقیب اللہ کے متعلق دعویٰ غلط نکلا

انکاؤنٹر اسپیشلسٹ رائو انواز کا دعویٰ غلط نکلا ،مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ محسود کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے اب تک کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا ۔

ذرائع کے مطابق نقیب اللہ کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی کمیٹی نے سینٹرل جیل میں قید قاری احسان سے پوچھ گچھ کی اور انہیں نقیب اللہ کی تصاویر دکھائیں۔

ذرائع کے مطابق قاری احسان نے نقیب اللہ کو پہچاننے سے انکار کردیا ۔دوسری طرف جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں نقیب اللہ محسود کی تدفین کردی گئی ۔

نقیب اللہ محسود جسے 13 جنوری کو مشکوک پولیس مقابلے میں مارا گیا ،ا س کے قتل کے خلاف سپر ہائی وے پر مظاہرین ٹائر جلاکر احتجاج کررہے ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ایس ایس پی رائو انوار کو برطرف کیا جائے ۔

مظاہرین کو منتشر کرنےا ور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی ، اب رینجرز بھی سپر ہائی وے پہنچ گئی ہے ۔

انکائونٹر اسپیشلسٹ رائو انوار نے نقیب اللہ کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشت گرد تھا ، انہوں نے دعوے کی سچائی کیلئے نقیب کے جرائم کی لمبی فہرست بھی میڈیا کو بتائی ، لیکن ابھی تک اُن کے یہ دعوے ثابت نہیں ہوسکے ۔

نقیب اللہ دہشت گرد تھا یا نہیں؟ اُسے اصلی مقابلے میں مارا گیا یا جعلی مقابلے میں؟ یہ جاننے کیلئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی سینٹرل جیل پہنچی اور وہاں قید کالعدم سپاہ صحابہ کے کمانڈرقاری احسان سمیت 3 کارندوں سے پوچھ گچھ کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں مجرموں کو نقیب اللہ کی تصویر دِکھائی گئی تاہم کمانڈر قاری احسان نے نقیب کو پہچاننے سے انکار کردیا۔

انکاؤنٹر اسپیشلسٹ رائو انواز کا دعویٰ غلط نکلا ،مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے نقیب اللہ محسود کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے اب تک کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا ۔  ذرائع کے مطابق نقیب اللہ کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی کمیٹی نے سینٹرل جیل میں قید قاری احسان سے پوچھ گچھ کی اور انہیں نقیب اللہ کی تصاویر دکھائیں۔  ذرائع کے مطابق قاری احسان نے نقیب اللہ کو پہچاننے سے انکار کردیا ۔دوسری طرف جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں نقیب اللہ محسود کی تدفین کردی گئی ۔  نقیب اللہ محسود جسے 13 جنوری کو مشکوک پولیس مقابلے میں مارا گیا ،ا س کے قتل کے خلاف سپر ہائی وے پر مظاہرین ٹائر جلاکر احتجاج کررہے ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ایس ایس پی رائو انوار کو برطرف کیا جائے ۔  مظاہرین کو منتشر کرنےا ور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی ، اب رینجرز بھی سپر ہائی وے پہنچ گئی ہے ۔  انکائونٹر اسپیشلسٹ رائو انوار نے نقیب اللہ کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشت گرد تھا ، انہوں نے دعوے کی سچائی کیلئے نقیب کے جرائم کی لمبی فہرست بھی میڈیا کو بتائی ، لیکن ابھی تک اُن کے یہ دعوے ثابت نہیں ہوسکے ۔  نقیب اللہ دہشت گرد تھا یا نہیں؟ اُسے اصلی مقابلے میں مارا گیا یا جعلی مقابلے میں؟ یہ جاننے کیلئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی سینٹرل جیل پہنچی اور وہاں قید کالعدم سپاہ صحابہ کے کمانڈرقاری احسان سمیت 3 کارندوں سے پوچھ گچھ کی۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں مجرموں کو نقیب اللہ کی تصویر دِکھائی گئی تاہم کمانڈر قاری احسان نے نقیب کو پہچاننے سے انکار کردیا۔  ذرائع کے مطابق اب انکوائری کمیٹی اور فارنزک ٹیمیں جائے وقوعہ شاہ لطیف ٹائون بھی جائیں گی ۔  سی ٹی ڈی نے حساس اداروں ،کے پی انتظامیہ اور فاٹا کو خطوط لکھ دیئے جن میں کہا گیا ہے کہ اگر نقیب اللہ کا کوئی کرمنل ریکارڈ ہے تو مہیا کیا جائے۔  سی ٹی ڈی نے نیوز چینلز سے بھی مدد مانگی ہے اور مبینہ مقابلے سے متعلق خبروں کی تفصیل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔  اس سے قبل راؤ انوار انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے،نقیب اللہ کا کرمنل ریکارڈ بھی ساتھ لائے،تحقیقات کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد راؤ انوار نے میڈیا سے مختصر گفتگو بھی کی۔  ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کا کہنا ہے کہ کمیٹی راؤ انوار کی پیش کردہ دستاویزات کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی۔

ذرائع کے مطابق اب انکوائری کمیٹی اور فارنزک ٹیمیں جائے وقوعہ شاہ لطیف ٹائون بھی جائیں گی ۔

سی ٹی ڈی نے حساس اداروں ،کے پی انتظامیہ اور فاٹا کو خطوط لکھ دیئے جن میں کہا گیا ہے کہ اگر نقیب اللہ کا کوئی کرمنل ریکارڈ ہے تو مہیا کیا جائے۔

سی ٹی ڈی نے نیوز چینلز سے بھی مدد مانگی ہے اور مبینہ مقابلے سے متعلق خبروں کی تفصیل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

اس سے قبل راؤ انوار انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے،نقیب اللہ کا کرمنل ریکارڈ بھی ساتھ لائے،تحقیقات کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد راؤ انوار نے میڈیا سے مختصر گفتگو بھی کی۔

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کا کہنا ہے کہ کمیٹی راؤ انوار کی پیش کردہ دستاویزات کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

x

Check Also

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا۔ ملزم مذاق کے نام پر خواتین کو مختلف باتوں پر ہراساں کرتا تھا اور گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر اس پر خوب تنقید کی جارہی تھی اور پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ ملزم پر خواتین سے غیراخلاقی حرکات ، اسلحہ کے زورپرگالم گلوچ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے لاہور کے علاقے محمود بوٹی میں کارروائی کرکے ملزم محمد علی کو گرفتار کرلیا۔ ملزم گکھڑ منڈی کا رہائشی ہے جس نے سوشل میڈیاپر اپنا چینل بنارکھا ہے ۔ ایس پی صدر عبدالوہاب کےمطابق ملزم مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کے لیے مختلف عوامی مقامات اور پارکس میں بیٹھی خواتین کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرتا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقامی شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی ہے۔

مزاحیہ ویڈیو کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والا یوٹیوبر گرفتار

گوجرانوالہ پولیس نےبغیراجازت عوامی مقامات پر ویڈیوز بناکر خواتین کرہراساں کرنے کے الزام میں ایک ...

%d bloggers like this: