لاہور: نوجوان نے ایک وینٹیلیٹر سے دو مریضوں کو آکسیجن دینے والا پرزہ بنا لیا

نوجوان نے ایک وینٹیلیٹر سے دو مریضوں کو آکسیجن دینے والا پرزہ بنا لیا

لاہور کے ایک نوجوان پلاسٹک فیکٹری مالک اسامہ عثمان نے ایک وینٹیلیٹر سے دو مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے والا سستا پرزہ بنا لیا، جسے طبی ماہرین نے بھی درست قرار دیتے ہوئے اس کی زیادہ تعداد میں تیاری کا کہہ دیا ہے۔

اس حوالے سے برسلز میں قائم پاک بینیلکس اوور سیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں کورونا وائرس کے خلاف صحت کی قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنا دست تعاون آگے بڑھانے والے تمام افراد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

گذشتہ روز چیمبر کے صدر نے لاہور کی مقامی پلاسٹک فیکٹری کے مالک اسامہ عثمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

اس موقع پر اسامہ عثمان نے بتایا کہ چند دن قبل لاہور میں ان سے رابطہ کرکے ایک 3 ڈی پرنٹڈ پلاسٹک کا پرزہ دکھایا گیا تھا اور اس کی تیاری میں تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔

اسامہ کے مطابق کسی پرزے کی تیاری کے لیے مولڈ یعنی اس کا سانچہ تیاری کرنے میں ہی تین سے چار ہفتے لگ جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی فیکٹری میں کرفیو کے باعث چھٹی ہونے کے باوجود اپنے ذمہ دار ماہرین کو بلاکر اس پرزے کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسامہ عثمان کے مطابق ان کی ٹیم نے فیکٹری میں پہلے سے موجود جن سانچوں سے وہ اپنی کاروباری چیزیں اور پرزے بناتے تھے، انہی کا استعمال کرتے ہوئے 72 گھنٹے کی مسلسل محنت کے بعد پرزہ تیار کرلیا۔ اس پہلی کاوش کو جب ٹیسٹ کیا گیا تو اس میں فکسنگ کی کچھ کمی تھی لیکن کچھ گھنٹوں کی مزید محنت کے بعد نیا پرزہ جب وینٹیلیٹر کے ساتھ لگایا تو وہ بالکل درست پایا گیا۔ جس کے بعد اسامہ عثمان نے طبی ماہرین سے اپیل کرتے ہوئے کہ دیا ہے کہ اس کام کیلئے جتنے پرزوں کی ضرورت بھی پیش آئے گی وہ تمام مفت عطیہ کرے گا۔

اس موقع پر پاک۔بینیلکس اوور سیز چیمبر آف کامرس کے صدر نے اسامہ عثمان کے جذبہ انسانیت کی تعریف کرتے ہوئے ان کیلئے تعاون اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

x

Check Also

کیا یہ دنیا کا سب سے پہلا ’’باقاعدہ جانور‘‘ تھا؟

پرتھ: عالمی ماہرین کی ایک ٹیم نے آسٹریلیا سے ایک ایسے جانور کے آثار دریافت ...

%d bloggers like this: