ملک کی جیلوں میں 60 فیصد سے زائد افراد بغیر کسی سزا کے قید ہیں، رپورٹ

ملک کی جیلوں میں 60 فیصد سے زائد افراد بغیر کسی سزا کے قید ہیں

وفاقی وزارت انسانی حقوق کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئیں دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) سمیت چاروں صوبوں کی جیلوں میں 60 فیصد سے زائد غیر سزا یافتہ قیدی ہیں اور 425 قیدی ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر چیف جسٹس اطہر من اللہ کو جیل ریفارمز کمیشن کی رپورٹ پیش کی جس میں چاروں صوبوں کی جیلوں میں موجود قیدیوں کو لاحق بیماریوں اور دیگر تفصیلات درج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چاروں صوبوں کی جیلوں میں موجود قیدیوں میں سے 2 ہزار 192 شدید بیمار ہیں جبکہ ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی مجموعی تعداد 5 ہزار 206 ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے پنجاب کی جیلوں میں 255 مرد اور 2 خواتین ایچ آئی وی کا شکار ہیں، اسی طرح سندھ میں 115 مرد اور ایک خاتون قیدی، کے پی میں 39 مرد اور بلوچستان کی جیلوں میں 13 قیدی ایچ آئی وی کے مرض میں مبتلا ہیں۔

جیلوں میں موجود ایک ہزار سے زائد قیدی ہیپاٹائٹس کا بھی شکار ہیں، اس فہرست میں پنجاب کی جیلوں میں سب سے زیادہ قیدی ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں۔

پنجاب کی جیلوں میں ایک ہزار 47 مرد اور 2 خواتین قیدی ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں، دیگر صوبوں میں سندھ میں 461 مرد اور ایک خاتون قیدی، کے پی میں 208 اور بلوچستان میں 72 مرد قیدی ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں۔

ملک کے چاروں صوبوں کی جیلوں میں مختلف بیماریوں کے شکار قیدیوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کی جیلوں میں 290 مرد اور 8 خواتین ذہنی امراض میں مبتلا ہیں، سندھ میں 50، کے پی میں 235 اور بلوچستان میں 11 قیدی ذہنی امراض کا شکار ہیں۔

ٹی بی کے شکار قیدیوں کی فہرست بھی رپورٹ میں شامل کی گئی ہے جس میں پنجاب کی جیلوں میں 87 قیدی، سندھ میں 50، کے پی میں 27 اور بلوچستان میں 7 قیدیوں کو ٹی بی کا عارضہ لاحق ہے۔

دیگر بیماریوں میں مبتلا قیدیوں میں پنجاب میں ایک ہزار 453 مرد اور 27 خواتین قیدی، سندھ میں 50، کے پی میں 642 مرد اور 20 خواتین قیدی شامل ہیں۔

چاروں صوبوں کے جیلوں میں طبی سہولیات کے حوالے سے متعلقہ آئی جیز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں 64 مرد اور 23 خواتین میڈیکل افسران ہیں جبکہ 36 مرد اور 9 خواتین کی آسامیاں خالی ہیں، سندھ میں 47 مرد اور 7 خواتین افسر موجود ہیں جبکہ 31 مرد اور 6 خواتین میڈیکل افسران کی مزید ضرورت ہے۔

کے پی میں 31 مرد اور 5 خواتین میڈیکل افسران قیدیوں کی صحت کے حوالے سے خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ 17 مرد اور 2 خواتین افسران کی جگہ خالی ہے، اسی طرح بلوچستان میں 12 مرد اور 4 خواتین میڈیکل افسران موجود ہیں جبکہ خالی آسامیوں کی تعداد 4 مرد اور 3 خواتین سمیت 7 ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں صرف کے پی میں 2 ڈینٹسٹ موجود ہیں جبکہ دیگر صوبوں میں کوئی ڈینٹسٹ موجود ہی نہیں۔

عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چاروں صوبوں میں قید 65 فیصد افراد بغیر کسی سزا کے جیلوں میں موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد کے پی میں ہے جہاں 71 فیصد قیدی بغیر سزا کے قید کاٹ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں 70 فیصد، بلوچستان کی جیلوں میں 59 فیصد اور پنجاب میں 55 فیصد قیدیوں کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی عدالتوں کی جانب سے انہیں کوئی سزا دی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں مجموعی طور پر 45 ہزار 324 افراد قید ہیں جن میں سے 25 ہزار 54 کے مقدمات زیر سماعت ہیں، کے پی میں قیدیوں کی مجموعی تعداد 9 ہزار 900 ہے جن میں سے 7 ہزار 67 قیدیوں کے مقدمات پر کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا۔

قیدیوں کے مقدمات کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ سندھ کی مختلف جیلوں میں 16 ہزار 315 افراد قید ہیں جن میں سے 11 ہزار 488 افراد کے مقدمات کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، بلوچستان میں 2 ہزار 122 قیدیوں میں سے ایک ہزار 244 قیدیوں کو کوئی سزا نہیں سنائی گئی اور ان کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔

x

Check Also

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

ستمبر کے پہلے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایس ...

%d bloggers like this: