کیا وزیراعظم عمران خان انڈر پریشر ہیں؟

تحریر: مظہر عباس

بطور کرکٹر عمران خان نے دباؤ کاہمیشہ لطف اٹھایا لیکن سیاستدان وزیراعظم عمران کچھ غلط کھیلتے اور اتحادیوں کودھکیلتے ہوئےاپنی حکومت کوغیرمستحکم کرتے ہوئے نظرآئے،جس نے وفاق اور پنجاب حکومت کیلئے ناخوشگوارصورتحال پیداکردی۔ 

’’توسیع‘‘کے بعد کے منظر نامے میں ہونے والی سیاسی پیشرفتوں سے کسی حد تک پر اعتماد وزیر اعظم عمران خان کی مرکز اور پنجاب حکومتوں اور پی ٹی آئی کے اندر مخلوط حکومت میں دراڑیں آنا شروع ہوگئی ہیں،جس نے انہیں کچھ حد تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اگرچہ فوری طور پر کسی بھی ’’اعتماد کے ووٹ‘‘یا’’ان ہاؤس‘‘ تبدیلی کی کسی قسم کی دھمکی نہیں ہے ، لیکن یقینی طور پر ان کے اتحادی ناخوش ہیں۔ اب زیادہ تر انحصار ان واقعات پر ہے جو اگلے چند ہفتوں میں پیش آسکتے ہیں۔

وزیر اعظم کو اس وقت صرف اتنا فائدہ ہوا ہے کہ اپوزیشن تقسیم ہوئی ،جس کی وجہ سے جے یوآئی (ف) کاآزادی مارچ حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہونے میں ناکام رہا۔

اس سے یقیناً دباؤ کم ہوالیکن کیا وزیراعظم اپنے تحادیوں سے کئے گئے زبانی یا تحریری معاہدوں کوپوراکرسکتے ہیں۔چاہےیہ اتفاق ہو یا کچھ اور، جنوبی پنجاب محاذ( جے پی ایم) کے سوا حکومت کے سبھی اتحادیوں نے مختلف معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے پر سرعام اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

جبکہ رہنما ایم کیو ایم وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی پہلے ہی وفاقی کابینہ چھوڑ چکے ہیں ، مسلم لیگ ق کےطارق چیمہ گجرات کے چودھریوں کی ہدایت پر احتجاج کے تحت کابینہ کے آخری اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) نے بھی وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں وفاقی وزیرپرویزخٹک اور جہانگیرترین کے سامنے تحفظات رکھے ہیں،لیکن جی ڈی اے نے کابینہ چھوڑنے کافیصلہ نہیں کیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی مینگل) بھی وفاق کی طرف سے مطالبات پرعمل نہ ہونے کی وجہ سے حکومتی وفدسے ملی ہے تاہم دوسری اتحادیوں کی طرح بی این پی نے بھی اتحاد چھوڑنے کافیصلہ موخرکردیاہے۔

حکمران جماعت کے اندایک لابی اس بات سے بھی خائف ہے کہ اتحادی اپنے طور پرکچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہےاوراپنے ہینڈلرزکی وجہ سے شواریوں کاشکارہیں۔2018کے انتخابات کے بعد ناقدین کاخیال تھاکہ حکومت اپنے اتحادیوں کیساتھ مینج نہیں کرپاتی تو مرکز اور خاص طور پر پنجاب میں عمران خان کے لئے حکومت بنانا ممکن نہیں ہوتا۔ 

لہذا ، جہاں مسئلہ دوسری صورت میں مثالی ، ʼسول اور فوجیʼ تعلقات میں شامل ہے ، کیونکہ پچھلے ہفتوں میں ہونے والی پیشرفتوں نے یقینی طور پر یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ اسلام آباد میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ 

وزیر اعظم عمران خان اپنے دو حریف سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت حاصل کرنے اور اول الذکرکےبیرون ملک سفر کرنے پر خوش نہیں ۔

اپنی حالیہ حکمت عملی کے تحت اب وہ انھیں واپس جیل بھیجنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں ایف آئی اے کو مزید ’’فری ہینڈ‘‘ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے اس عزم کودہراتے ہوئےاپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ دونوں خاندانوں کو کسی بھی قسم کا این آر او نہیں دیں گے اور ان معاملات پر بھی غور و خوض کریں گے کہ انہیں کس طرح ریلیف مل رہاہے۔

ایک متعلقہ پیشرفت میں قومی احتساب بیورو( نیب) نے پی ٹی آئی رہنما اور معاون خصوصی زلفی بخاری کو’’کلین چٹ‘‘ دی ہے،جبکہ دونوں فریقوں کی اعلی قیادت کے خلاف کچھ نئے مقدمات کی تحقیقات کھولنے کا فیصلہ کیا۔تاہم، قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس میں جو سیاسی ماحول بہتر ہوا ہے اور’’ترمیمی بل‘‘ آسانی سے پاس ہوا اور سروسز ایکٹ 2019 میں ترمیم کی گئی ہے ، اس تنازعہ سے ایک بار پھر سیاسی ماحول تناؤکاشکارہو سکتاہے۔

 حکومت نے مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی کسی درخواست پرناصرف مخالفت کا فیصلہ کیا ہے بلکہ نواز شریف کی حالیہ میڈیکل رپورٹ پر بھی تحفظات کا اظہار کیاہے۔

سندھ اور پنجاب میں وزیراعظم پارٹی کے اندربھی مسائل کاسامناکررہے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ شدیدہوگیاہے اور پہلی بار حکمران جماعت کےکم سے کم 6 ایم این ایز نے وزیر اعظم سے اپنی تشویش کا اظہار کیا جبکہ ان میں سے 3 نے قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی پر بھی الزام لگایا تھا جس نے انہیں شرمناک پوزیشن میں لاکھڑاکیا۔

عثمان بزدارکی جگہ بطور وزیراعلی پنجاب پرویزالٰہی کی تبدیلی کی حمایت زور پکڑتی جارہی ہے،اور انہیں مسلم لیگ کے مقابلے میں ایک بہترانتخاب سمجھاجارہاہے۔

لیکن یہ بات وزیراعظم کیساتھ ساتھ پارٹی کے مضبوط ترین رہنماجہانگیرترین،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور گورنرپنجاب چوہدری سرورکیلئے آسان نہیں ہے۔

وزیر اعظم کاچیف سیکرٹری کو مزید اختیارات دینے کا حالیہ فیصلہ جس میں وزیراعلیٰ کو براہ راست سمری نہ بھیجنے سے بزدار کیمپ میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ چنانچہ چیف سیکرٹری براہ راست مرکز سے آرڈر لیتے ہوئے ڈیفیکٹو وزیراعلیٰ بن گئےہیں۔

سندھ میں ایم کیوایم اور جی ڈی اے دونوں پی ٹی آئی کی اتحادی ہیں اور دنوں ناخوش ہیں،اگرچہ جی ڈی اے چھوٹی جماعتوں پر مشتمل ہے،اگرحالات بدترہوتے ہیں تو جی ڈی اے کی3 نشستوں سے بھی فرق پڑ سکتا ہے،جبکہ وہ صرف مرکز سے ترقیاتی فنڈزجاری کرنا چاہتے ہیں ، ایم کیو ایم (پاکستان) کےحوالے سےمعاملات کہیں زیادہ مکمل ہوچکے ہیں۔ 

اس کے مطالبات کی طاقتور حلقوں اور ایم کیو ایم ہی کے ذریعہ مخالفت کی جاسکتی ہے ، انہیں فنڈز اور منصوبوں کے حصول کے ساتھ معاملات طے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ایم کیو ایم (پاکستان) سندھ میں بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں تازہ مردم شماری کی خواہاں ہے ، اپنے سیکٹر اور یونٹ دفاترحوالے کرنا، لاپتہ افراد کی بازیابی، اعلی رہنماؤں اور سینکڑوں کارکنوں کے خلاف زیر التوا مقدمات جلد از جلد نمٹانے کے لئے تاکہ انہیں مزید سیاسی جگہ مل سکے کی خواہ ہاں ہے۔

ماضی میں سابق ڈی جی رینجرز نےان مطالبات کوویٹو کردیاتھا اوراس خدشہ کیساتھ سیکٹر اور یونٹ کھولنے کی مخالفت کی تھی کہ اس سے ایم کیو ایم (پاکستان) کو پرانا تنظیمی ڈھانچہ بحال کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ 

ایم کیو ایم نے ان خدشات کومستردکیاہے اور وزیر اعظم اور دیگر متعلقہ افراد سے کہا ہے کہ وہ پارٹی پر شک کرنا چھوڑ دیں۔ اگلے ایک ماہ میں سیاسی پیشرفت دیکھنا دلچسپ ہوگا اور کچھ غیر سیاسی واقعات کے ساتھ ساتھ حکومت کو 2020 میں متعدد چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

x

Check Also

پانی کی بچت: عارضی منصوبہ یا مستقل کام؟

زرعی معیشت میں کھالہ جات کی حیثیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسانی جسم میں ...

%d bloggers like this: