حکومت کا عدالتی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی کور کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کی اور حکمرانوں کے خلاف توہین آمیز زبان کے استعمال پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا۔

پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت اور بیرون ملک علاج کے لیے ضروری روانگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت نواز شریف کی جانب سے بیرون ملک جانے سے متعلق پابندی ہٹانے سے متعلق درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو قبول کرے گی۔

علاوہ ازیں اجلاس میں میڈیا کے رویے سے متعلق مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور حکومت کی میڈیا ٹیم کی کارکردگی کے جائزے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

کور کمیٹی کے اجلاس میں کابینہ میں ممکنہ رد و بدل کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا اور آگاہ کیا گیا کہ جلد ہی اس حوالے سے معمولی تبدیلیاں کی جائیں گی لیکن کوئی نیا اضافہ نہیں ہوگا۔

اجلاس میں شریک ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی، اسلام آباد میں دھرنے کے دوران جے یو آئی (ف) کی تقریروں پر برہم تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ہمیں ایسی تقریروں کو معمول کے انداز میں نہیں لینا چاہیے، جے یو آئی (ف) کے رہنما بھی اسی چیز کا سامنا کریں جس کا دیگر سیاستدانوں اور مصیبت پیدا کرنے والے افراد کو کرنا پڑا تھا’۔

اس حوالے سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ کور کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی ناقابل قبول زبان کی مذمت کی تھی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ‘ اس دھرنے کی وجہ سے کشمیر کاز بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہا تھا’۔

اس میں مزید کہا گیا کہ کمیٹی نے دھرنے کے دوران اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے کی گئی تقریروں میں قانون کی خلاف ورزیاں پتہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ‘ کمیٹی کا خیال تھا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے دھرنے کا حصہ بن کر اپنی موقع پرستی تاکہ وہ بچنے کا راستہ تلاش کرسکیں’۔

ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں نواز شریف کی صحت پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرے گی۔

اس حوالے سے ذرائع نے کہا کہ ‘ اگر عدالت نواز شریف کی روانگی کے لیے حکومت کی شرائط ختم کرنے کا کہتی ہے تو ہم کردیں گے لیکن اس سلسلے میں ایک مجرم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کی ذمہ داری حکومت پر نہیں آئے گی’۔

x

Check Also

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس ...

%d bloggers like this: