The Taliban's former envoy to Saudi Arabia Shahabuddin Delawar (L) arrives with Taliban negotiator Abbas Stanikzai (R), along with Taliban Qatar spokesman Suhail Shaheen (2nd-R), and the Taliban's former culture and information minister Amir Khan Mutaqi to attend the Intra Afghan Dialogue talks in the Qatari capital Doha on July 7, 2019. - Dozens of powerful Afghans met with a Taliban delegation on July 7, amid separate talks between the US and the insurgents seeking to end 18 years of war. The separate intra-Afghan talks are attended by around 60 delegates, including political figures, women and other Afghan stakeholders. The Taliban, who have steadfastly refused to negotiate with the government of President Ashraf Ghani, have stressed that those attending are only doing so in a "personal capacity". (Photo by KARIM JAAFAR / AFP)

طالبان قیدیوں کا غیر ملکی پروفیسرز کے ساتھ تبادلہ مؤخر

افغان حکومت کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ 2 مغربی مغویوں کا 3 طالبان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ موخر کردیا گیا جبکہ طالبان ذرائع نے بتایا کہ عسکری گروہ نے مغویوں کو ’نئے اور محفوظ مقام‘ پر منتقل کردیا۔

افغان صدر اشرف غنی نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ طالبان کے عسکری گروپ حقانی کے3 رہنماؤں کا تبادلہ یونیورسٹی کے 2 پروفیسرز سے کریں گے جس میں ایک امریکی کیون کنگ اور ایک آسٹریلوی ٹموتھی ویک شامل ہیں۔

مذکورہ معاہدے کو افغان حکومت کی جانب سے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے حوالے سے خاصہ اہم سمجھا جارہا تھا جو کابل حکومت کو کٹھ پتلی قرار دے کر ان کے بات چیت سے انکاری تھے۔

تاہم واشنگٹن میں موجود سفارت کار کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کا تبادلہ نہیں ہوسکا اس ضمن میں جمعے کے روز ایک افغان عہدیدار نے بتایا کہ اسے موخر کردیا گیا ہے اور مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس التوا کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ نہ ہونے کے پیچھے امریکا قصوروار ہے۔

اس سلسلے میں حقانی نیٹ ورک کے رہنما کے بھائی انس حقانی کے رشتہ دار سمیت 3 طالبان ذرائع نے بتایا کہ عسکری کمانڈرز کو رہا کر کے قطر روانہ کیا جانا تھا لیکن انہیں افغان دارالحکومت کابل سے دور بگرام جیل میں واپس بھیج دیا گیا۔

انس حقانی کے رشتہ دار نے بتایا کہ ’ہماری ان سے اس وقت بات ہوئی تھی جب انہیں بگرام جیل سے نکالا گیا تھا اور انہیں نئے کپڑے بھی دیے گئے تھے تاہم معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر انہوں نے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے ہمیں بتایا کہ طالبان اراکین کو طیارے میں سوار کروانے کے لیے لے جایا جارہا ہے اور ہم دوحہ میں ان کی آمد کا انتظار کرتے رہے لیکن کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد ہمیں شبہ ہوا‘۔

مزید ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے جیل میں طالبان قیدیوں اور افغان سیکیورٹی فورسز کےا راکین سے قیدیوں کی واپس بگرام جیل منتقلی کے بارے میں سنا، اس اقدام نے طالبان کو ’حیران اور دل گرفتہ‘ کردیا ہے۔

اس معاملے سے باخبر تیسرے ذرائع نے کہا کہ ’معاہدہ یہ تھا کہ جب ہمارے قیدی وطر پہنچ جائیں گے تو ہم ان کے قیدی رہا کردیں گے‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کمانڈرز کے قطر نہ پہنچنے پر طالبان نے فوری طور پر کیون کنگ اور ٹموتھی ویکس کو ’ایک نئی اور محفوظ جگہ‘ منتقل کردیا۔

طالبان ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں معلوم نہیں کہ ان کے قیدیوں کو دوحہ کیوں روانہ نہیں کیا گیا جبکہ افغان حکومت اور کابل میں موجود امریکی سفارت خانے نے اس حوالے سے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

ادھر آسٹریلوی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ وہ اپنی شہری کی رہائی کی کوشش کے حوالے سے ’لمحہ بہ لمحہ‘ آگاہ نہیں کرسکتے۔

خیال رہے کہ حقانی نیٹ ورک کی جانب سے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران افغان شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے کے عسکری حملے کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ٹموتھی ویکس اور کیون کنگ کو افغان دارالحکومت کابل میں قائم امریکی یونیورسٹی کے باہر سے اگست 2016 میں اغوا کیا گیا تھا۔

جس کے بعد ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کمزور اور بدحال نظر آرہے تھے، مذکورہ ویڈیو میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی رہائی کی اپیل کی تھی۔

یہ خبر 16 نومبر 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

x

Check Also

'بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے'

‘بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے’

ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے صدر جوگت سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور ...

%d bloggers like this: