امریکی کانگریس کی پھر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت

امریکی کانگریس کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھارت کو ایک مرتبہ باور کروایا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق خود ارادایت سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔

2روز قبل کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کے انسانی حقوق کمیشن نے 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سماعت کی تھی جس میں کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کی غیر معمولی حمایت کی گونج دہائیوں میں شاید پہلی مرتبہ سنائی دی۔

اوہائیو یونیورسٹی میں مرکز برائے قانون و انصاف کی ڈائریکٹر ہیلی دشینسکی نے اپنے اختتامی کلمات میں یہ مسئلہ اٹھایا اور پینل کو یاد کروایا کہ ‘ 70 برس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیے گئے وعدے کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا موقع نہیں دیا گیا’۔

ہیلی دشینسکی کے بیان پر بھارت نژاد امریکی کالم نگار سنندا وشست برہم ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ رائے شماری کبھی نہیں ہوسکتی کیونکہ نہ تو بھارت نہ پاکستان یہاں تک کہ چین بھی اپنے کنٹرول میں موجود علاقے خالی نہیں کرے گا جو استصواب رائے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ کانگریس کو گڈ لک جو چین سے کشمیر خالی کروائے گا، اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں، استصواب رائے بہت دور ہے یہ کبھی نہیں ہونے والا’۔

اس بیان پر کانگریس کے رکن جیمز میک گورن برہم ہوگئے اور کہا کہ حق خود ارادیت بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ سنندا وشست ہم کبھی اس اصول کے حق میں کھڑے پر ہار نہیں مان سکتے جس کے تحت لوگوں کو حق خودارایت کا حق حاصل ہے’۔

سنندا وشست نے اصرار کیا کہ کشمیر کا واحد مسئلہ سرحد پار پاکستان سے آنے والی دہشت گردی ہے جس پر کانگریس کی خاتون رکن شیلا جیکس نے کہا کہ ‘ کسی پورے ملک سے ان اقدامات کو منسوب کرنا جن سے کوئی اتفاق نہیں کرتا ایک خطرناک رجحان ہے’۔

جیمز میک گورن نے کہا کہ ‘ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو انسانی حقوق کی عظمت چاہتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات کو لوگوں کی بنیادی آزادی سلب کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، ہمیں یہ پتہ لگانا ہے کہ اس بلیم گیم سے کیسے نکلنا ہے’

یہ خبر ڈان اخبار میں 16 نومبر 2019 کو شائع ہوئی

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: