تحریر: انصار عباسی

ایک نہیں تین پاکستان!!

تحریر: انصار عباسی

اپریل 2016ء میں میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 6 فوجی افسران کو کرپشن کے جرم میں نوکری سے برخاست کر دیا۔ جن افسران کو نکالا گیا اُن میں ایک لیفٹیننٹ جنرل اور ایک میجر جنرل بھی شامل تھے۔

2018ء میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک ایڈیشنل اور سیشن جج کو ایک کیس میں رشوت لے کر ملزم کے حق میں فیصلہ دینے پر نوکری سے نکال دیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے بار ہا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو اُن کے خلاف ریفرنس فائل ہونے پر موقع دیا کہ وہ چاہیں تو ریٹائرمنٹ لے لیں جس پر اُن کے خلاف کیس بند کر دیا جائے گا۔ ماضی میں کئی کیسوں میں ایسے ججوں نے کرپشن یا دوسری نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنے کے بجائے ریٹائرمنٹ لینا مناسب سمجھا۔

گویا اگر کوئی فوج میں کرپشن کرتا ہے تو اُس کی سزا نوکری سے برخاست ہونا ہے اور پنشن بھی اکثر ایسے کیسوں میں روک دی جاتی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو کرپشن کے الزامات پر پنشن سمیت تمام سہولتوں کے ساتھ ریٹائرمنٹ لینے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی سیاستدان یا کسی سول سرکاری افسر پر کرپشن کا کیس بن جائے تو اکثر اُنہیں الزام کی بنیاد پر ہی جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور اگر کرپشن کا الزام ثابت ہو جائے تو نہ صرف لوٹا ہوا پیسہ وصول کیا جاتا ہے بلکہ چودہ سال تک قید کی سزا بھی بھگتنا پڑتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی جرم میں سزا کی نوعیت یہاں اس لیے مختلف ہو جاتی ہے کیونکہ مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے قانون مختلف سزائیں تجویز کرتا ہے۔

گویا خواب ایک پاکستان کا دیکھا اور دکھایا جاتا ہے لیکن یہاں دو کیا، تین پاکستان ایک ایسی حقیقت ہے جو جھٹلائی نہیں جا سکتی۔

موجودہ حکومت نے بھی ایک پاکستان کا وعدہ کیا تھا لیکن جو مرضی کر لیں پاکستان نہ ایک ہے، نہ ہی ایک ہوگا۔

ایک پاکستان اشرافیہ کا ہے اور ایک عام عوام کا۔ جب اشرافیہ اور بااثر طبقات کی بات ہوتی ہے تو وہاں بھی ہمیں دو پاکستان ہی نظر آتے ہیں، ایک وہ طبقہ جو کسی حد تک قابل گرفت ہے اور دوسرا وہ طبقہ جو قابل گرفت نہیں اور اگر ہے تو اُس طبقے کی گرفت ایسے کی جاتی ہے جسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کرپشن کو کسی بھی معاشرے کے لیے ناسور تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی کرپشن ایک بڑی خرابی ہے جس کے علاج کے لیے احتساب کے نام پر بہت کچھ ہوا لیکن زیادہ تر احتساب کا نزلہ سیاستدانوں اور سرکاری افسروں پر ہی گرتا رہا۔ کبھی پروڈا تو کبھی ایبڈو اور کبھی نیب کے نام پر سیاستدانوں کا ’’احتساب‘‘ کیا گیا،سول بیورو کریسی کو بھی گاہے گاہے نشانہ بنایا جاتا رہا۔

تیرہ سو افسران کو ایک جھٹکے میں نوکری سے نکال دیا گیا لیکن کسی دور میں بھی احتساب بلاتفریق نہیں ہوا اور اکثر یہ شکایت رہی کہ احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین اور ناپسندیدہ افسران کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

Across the Board Accountability کی بات ہمیشہ ہوتی رہی اور بولنے اور سننے والوں کو اچھی بھی لگتی رہی لیکن اس کو کبھی حقیقت نہیں بنایا جا سکا۔ جب احتساب انتقام میں بدل جائے، جب ایک ہی نوعیت کا جرم (کرپشن) کرنے والوں کے لیے سزا میں امتیاز برتا جائے، کیونکہ اُن کا تعلق مختلف اداروں سے ہو، جب حکمران جماعتیں اور مارشل لائی حکومتیں اپنے مخالفوں کو سبق سکھانے کے لیے احتساب اور کرپشن کے قوانین کا غلط استعمال کریں، جب احتساب کے ادارے کو سیاسی جماعتوں کو بنانے، توڑنے یا حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا تو پھر ایسی ریاست اور ایسے معاشرہ کا وہی حال ہو گا جو پاکستان کا ہو رہا ہے۔

x

Check Also

بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ماہرین کی گفتگو سنتے ہوئے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے اور اختلاف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اخبار یا ٹیلی وژن چینل سے وابستہ حضرات کی اکثریت سے مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی توقع رکھنا دل شکنی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو فرصت کم کم نصیب ہوتی ہے۔ ویسے بھی معاشرے میں ان کو اتنی پذیرائی اور شہرت مل جاتی ہے کہ وہ کتاب سے خاصی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں اور عام طور پر شہرت کے تکبر کا شکار ہو جاتے ہیں، البتہ کچھ حضرات کتاب سے تعلق نبھاتے ہیں اور غور و فکر کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں۔ عام طور پر لیڈروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس طرح لیڈران کی زندگی کو ذاتی اور عوامی شعبوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بہت سی شرعی قباحتوں کو ذاتی زندگی کے خانے میں ڈال کر جائز اور ناجائز کی بحث سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ بادشاہتوں اور خاندانی آمریتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں حکمرانوں کی جانب انگلی اٹھانے کی جسارت گردن زدنی کا باعث بھی بن سکتی ہے لیکن جمہوری یا نیم جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذاتی زندگی پر تصور موجود ہی نہیں ہوتا۔ حکمران ہر فعل کیلئے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے حتیٰ کہ اگر اقتدار کا تاج پہننے سے قبل بھی اس نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اقتدار میں آنے کے بعد اس کا بھی احتساب کیا جاتا ہے۔ حکمران یا لیڈر قوم کا رول ماڈل ہوتا ہے اور اس کی ہر حرکت، ہر پالیسی اور ہر اقدام قوم کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم نے گزشتہ 72برسوں میں یہاں اسی طرح کا کلچر پروان چڑھتے دیکھا ہے جس قسم کی حکمران کی شخصیت تھی، ہم نے قومی عادات، سماجی رویے حتیٰ کہ لباس کو بھی حکمرانوں کی شخصیت سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر آپ خود غور کریں کہ ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر اور نواز شریف کے ادوار اور پھر جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہمارا معاشرہ کس طرح حاکموں کی شخصیتوں سے متاثر ہوتا رہا اور ان کی ذاتی زندگیوں کی پرچھائیں ہر طرف نظر آتی رہیں، اگر ضیاء الحق کے دور میں مساجد میں حاضری بڑھی اور شلوار قمیص واسکٹ کا رواج پروان چڑھا تو جنرل مشرف کے دور میں انگریزی لباس، نائو نوش اور رقص و سرور کی خوب حوصلہ افزائی ہوئی۔ کرپٹ حکمرانوں کے دور میں اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن نے رواج پایا اور ایماندار حاکموں کے دور میں کرپشن محتاط رہی۔ سیاست اور جمہوریت کا پہلا اصول ہی Transparency یعنی شفافیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اندر باہر کا واضح ہونا، ذاتی اور سیاسی زندگی کا بے نقاب ہونا۔ اسی سے آزادیٔ اظہار کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی سے احتساب یا جوابدہی کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ کسی لیڈر کے حوالے سے کسی بات کو ذاتی کہہ کر اسے ڈھال یا پردہ فراہم کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق سیاستدان اور لیڈر کے لئے سب سے اہم اور قیمتی شے اس کا ووٹ بینک، سیاسی حمایت اور پھر اسی حوالے سے اس کی پارٹی اور کارکن ہوتے ہیں۔ لیڈر ان شعبوں کو بچانے، محفوظ رکھنے اور مضبوط بنانے کے لئے ہمہ وقت سوچتا اور کام کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی دے سکتا ہے۔ سینکڑوں مثالیں واضح کرتی ہیں کہ کس طرح لیڈر اور حکمران نے محض اپنے ان سیاسی اثاثوں کو بچانے کے لئے اقتدار چھوڑ دیا حتیٰ کہ جان بھی دے دی۔ بھٹو صاحب جب جیل میں پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے تو بیشک وہ تاریخ میں سرخرو ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے، تاریخ میں سرخرو ہونے کیلئے ہی مستحکم ووٹ بینک اور پارٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیاقت علی خان قائداعظم کے ساتھی، تحریک پاکستان کے بڑے کارکن اور مقبول سیاسی لیڈر تھے۔ ملک و قوم کے لئے ان کا ایثار ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔ ان کے مقابلے میں بھٹو صاحب نہ تحریک پاکستان کے لیڈر تھے اور نہ ہی قائداعظم کے ساتھی بلکہ آمریت کی پیداوار تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ موت کے بعد بھٹو صاحب لیاقت علی خان کے مقابلے میں زیادہ مقبول و موثر لیڈر بن کر ابھرے۔ بہت سی وجوہ ہوں گی لیکن میرے نزدیک اس صورتحال کی بڑی وجہ بھٹو صاحب کی سیاسی پارٹی، ووٹ بینک اور سیاسی کارکن تھے جبکہ لیاقت علی خان کو ان کی شہادت کے بعد ان کی پارٹی نے کوئی اہمیت نہ دی۔ لیاقت علی خان کے صاحبزادگان چھوٹے تھے، اگر وہ جوان ہوکر سیاست میں قدم رکھتے اور اپنے باپ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو انہیں مایوسی ہوتی۔ اس کے برعکس طویل جلا وطنی اور پابندیوں کے باوجود بینظیر کو اپنے باپ کی پارٹی، کارکن اور ووٹ بینک ورثے میں ملے اور ان کے دوبار وزیراعظم بننے کا ذریعہ بنے۔ اس پسِ منظر میں اگر آپ حکومتی وزراء اور سیاسی عہدیداران کے تبصرے پڑھیں تو وہ سیاسی بلوغت سے تہی لگتے ہیں، جن صاحبانِ مناصب کو یہ اصرار ہے کہ میاں نواز شریف واپس نہیں آئیں گے، انہیں فرصت کے چند لمحات نکال کر سوچنا چاہئے کہ میاں صاحب کی سیاسی زندگی 37برسوں پر محیط ہے، انہوں نے سیاست کے میدان میں محنت اور سرمایہ کاری کی ہے، گمنامی سے نکل کر ناموری کے لبِ بام پہ آئے ہیں، ان کی پارٹی، ووٹ بینک اور وفادار کارکن ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، مریم اسی وراثت کی امین ہے اس لئے شفایاب ہو کر وہ ہر صورت واپس آئیں گے اور محض جیل کے ڈر سے زندگی بھر کا سرمایہ ضائع نہیں کریں گے۔ سیاستدان کے لئے جیل عارضی شے ہوتی ہے جس کی دیواریں گرتے دیر نہیں لگتی۔ پسند ناپسند سے بالاتر یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے۔

سیاست کے دو رُخ

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود بڑے بڑے دانشوروں کی تحریروں سے گزرتے اور بڑے بڑے میڈیا ...

%d bloggers like this: