ٹرمپ نے طیب اردوان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

ٹرمپ نے طیب اردوان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس پہنچنے پر صدر ٹرمپ نے طیب اردوان کا گرم جوشی سے استقبال کیا جب کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران سیاسی معاملات سمیت ترکی کی جانب سے روس سے میزائل سسٹم خریدنے پر بھی بات ہوئی۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے طیب اردوان سے ملاقات کو ایک بہترین اور سود مند ملاقات قرار دیا جب کہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ملاقات کے بعد نیٹو اتحادی اپنے اختلافات کو حل کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ تعلقات کی بھی تعریف کی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم ایک طویل عرصے سے دوست ہیں اور شاید پہلے دن سے ہی دوست ہیں، ہم ایک دوسرے کے ملکوں کو سمجھتے ہیں اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم کہاں سے آرہے ہیں۔

ٹرمپ نے صدر اردوان اور ان کی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے ملک اور خطے میں انتہائی قابل احترام ہیں۔

ترکی کی روس سے میزائل سسٹم کی خریداری پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ترکی کے روس سے ایس 400 جیسے فوجی سازو سامان کے حصول نے ہمارے لیے سنجیدہ مسائل کو جنم دیا، ہم اس معاملے پر مسلسل بات کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے آج بھی اس معاملے پر بات کی اور ہم اپنے مستقبل کے بارے میں بھی بات کررہے ہیں، امید ہے ہم اس صورتحال پر قابو پالیں گے۔

اس موقع پر ترک صدر طیب اردوان کاکہنا تھا کہ دو ملک صرف اسی صورت مسائل پر قابو پاسکتے ہیں جب وہ مذاکرات کریں۔

ترک صدر نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مہاجرین کے معاملے پر کسی دوسرے ملک نے ترکی سے تعاون نہیں کیا، جب کوئی بھی مہاجرین کو قبول نہیں کررہا تھا تو ہم نے انہیں قبول کیا۔

واضح رہےکہ ترکی کی جانب سے روس سے ایس 400 میزائل سسٹم کی خریداری پر امریکا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ساتھ ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ڈیل ختم کردی تھی۔

جب کہ امریکی ایوان نمائندگان نے شمالی شام پر حملے اور روسی میزائل سستم خریدنے پر گزشتہ ماہ ترکی پر پابندیوں کی قرارداد بھی منظور کی تھی۔

x

Check Also

'بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے'

‘بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور آنے سے روک رہی ہے’

ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے صدر جوگت سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت سکھوں کو کرتارپور ...

%d bloggers like this: