کراچی میں ڈینگی وائرس سے 7 ماہ کے بچے سمیت 2 افراد انتقال کرگئے

کراچی میں ڈینگی وائرس سے 7 ماہ کے بچے سمیت 2 افراد انتقال کرگئے

کراچی میں ڈینگی وائرس میں مبتلا 7 ماہ کے بچے سمیت مزید 2 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد رواں سال سندھ بھر میں ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔

شہر قائد میں ڈینگی وائرس کے وار جاری ہیں اور ایک 7 ماہ کا بچہ ڈینگی کے باعث جان کی بازی ہار گیا، اس کے علاوہ نجی اسپتال میں لیاقت آباد کی رہائشی 55 سالہ خاتون ڈینگی کے باعث انتقال کرگئیں۔

رپورٹس کے مطابق کراچی میں مزید 187 افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوئے ہیں جس کے بعد رواں سال صوبے بھر میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 9ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جس میں سے اکثریت کا تعلق کراچی سے ہے۔

دیگر صوبوں کی صورتحال

پنجاب کے متعدد شہروں میں سردی بڑھتے ہی ڈینگی کے کیس بھی کم ہونے لگے  ہیں، فیصل آبادمیں 48 گھنٹوں میں کوئی ڈینگی کا مریض رپورٹ نہیں ہوا۔ ملتان میں بھی ڈینگی بخار کے شبہ میں نشتر اسپتال میں صرف ایک مریض زیرعلاج ہے۔

سرگودھا کے ضلعی اسپتال میں داخل 3 مزید مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

کوئٹہ میں ڈینگی وائرس کے7 نئے مریض فاطمہ جناح اسپتال میں داخل کیے گئے ہیں اور رواں سال ڈینگی کے 43 مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈینگی وائرس کے مریضوں میں سے 4 کا تعلق کوئٹہ اور 3 کا پشین سے ہے اور تمام مریض چند روز  قبل کراچی سے سفر کرکے آئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں بھی ڈینگی کے حملے جاری ہیں اور ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے اب تک 5 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

x

Check Also

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ہر آنے والا دن ایک نئی کہانی سامنے لارہا ہے فردوس عاشق اعوان وفاقی حکومت کی ترجمان ہیں اور اُن کی کہی گئی ہر بات وزیر اعظم کی مرضی یا پالیسی کے مطابق ہوتی ہے مگر عمران خان کے ہی ایک وزیر فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں فردوس عاشق کے اس بیان کو جہا لت قرار دے دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عثمان بزدار پر تنقید وزیر اعظم پر تنقید کے برابر ہے گوکہ فردوس عاشق اعوان نے اسے فواد چوہدری کا بچپنا قرار دیا ہے مگر پنجاب کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی صفوں میں سب کچھ صحیح نہیں لگ رہا اور پنجاب کے متعلق فواد چوہدری کے بیانات پر جہانگیر ترین کی خاموشی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اطلاعات یہ ہی ہیں کہ پرویز الہی کی خوشنودی کے لیے انھیں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدار وزیر اعلی رہیں مگر فواد چوہدری کو مشیر اعلی بناکر زیادہ تر اختیارات دیئے جاسکتے ہیں جن سے پرویز الہی کی اچھی دوستی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پرویز الہی اپنا وزن کہاں ڈالتے ہیں کیا مسلم لیگ نون کی مدد سے وزیر اعلی بننا چاہیں گے یا فواد چوہدری کو بطور مشیر اعلی موقع دیں گے۔ پنجاب اسمبلی کے بیس ارکان نے جن کا پی ٹی آئی سے تعلق ہے ایک الگ گروپ بنالیا ہے جو کہ واضح اشارہ ہے کہ یہ بیس ارکان پارٹی سے ہٹ کر بھی ایک ساتھ ہیں۔ دوسری طرف مقتدر حلقے اس بات پر ناراض ہیں کہ کچھ وفاقی اور صوبائی وزراء بار بار ہمارا نام اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمارے حکم پر ہوتا ہے گزشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر کے اس طرح کے بیانات سامنے آئے تھے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت ایک ادارہ ہیں اور ہم نے نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ ہر دور حکومت میں حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہ کر تعاون کیا ہے لہذا ایسا کوئی بھی پروپیگنڈا کہ ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ایک صفحہ پر پہلی دفعہ آئے ہیں بالکل غلط ہے اور اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کے بعد اب سیاسی کارکنان بھی ناراض ہوتے جارہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے غیر سیاسی دوستوں کی حکومت میں بے جا مداخلت اُن کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کو اس سلسلے میں جلد بڑے فیصلے کرنا ہونگے ورنہ ناراضیوں میں اضافہ ہوجائے گا جو کہ اُن کی حکومت کے لیے بہتر نہیں۔ ان سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ پہلے تو ہم سے کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھوائی گئیں اور بیانیہ کو اتنا پھیلایا گیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے حق میں بات کرنے والا ہر فرد چاہے وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو بدترین کرپٹ نظر آیا اور اب وزیر اعظم کے دیرینہ دوست اور مشیر نعیم الحق نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیا کہ اگر اپوزیشن ایک اشارہ بھی کرے تو ہم دوستی کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کے انداز میں یہ تبدیلی ان کارکنان کے لیے انتہائی حیران کُن ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یا تو عمران خان اُس وقت غلط تھے یا پھر آج غلط ہیں۔

عمران کی پریشانیوں میں ہر روز اضافہ

اسلام آباد(حیدر نقوی)عمران خان کی پریشانیوں میں ہر بڑھتے دن تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ...

%d bloggers like this: