مولانا فضل الرحمان کا اگلا پلان، دنیا ٹوڈے پر

مولانا فضل الرحمان نے آخر کار اپنے پتے شو کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ آزادی مارچ سے شروع ہونے والا احتجاج اب دھرنے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

آزادی مارچ میں مظاہرین کی شرکت نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو کنٹینر پر کھڑا رہنے پر مجبور کردیا۔

شرکا کی جانب سے ڈی چوک کی طرف مارچ کرنے کے مطابق پر مولانا فضل الرحمان نے کہا میں نے آپ کی بات سن لی ہے، نواز شریف نے بھی سن لی ہے، آصف علی زرداری نے بھی سن لی ہے اور ہم جنہیں سنانا چاہ رہے ہیں وہ بھی سن لیں۔

سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے ، ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، ہم اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر ہم اداروں کو بھی غیر جانب دار دیکھنا چاہتے ہیں۔

ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ مولانا فضل الرحمان شہر اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ میں دھاک بٹھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے دھرنے اور اسلام آباد راولپنڈی کے مختلف مدرسوں میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد افراد موجود ہیں جو کسی بھی وقت سڑکوں پر دھرنا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دنیا ٹوڈے ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان دو دن بعد ڈی چوک کے بجائے فیض آباد کی طرف مارچ کریں گے اور وہاں دھرنا دیں گے۔

فیض آباد میں دھرنا دینے کے بعد مولانا فضل الرحمان ملک کی اہم شاہراہوں پر کارکنوں کو بیٹھنے کی ہدایت دیں گے جس سے ملک بھر میں معمولات زندگی متاثر ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے۔ جس میں ہو سکتا ہے عمران خان کو مطلوبہ ووٹ نہ ملیں اور وہ وزارت عظمیٰ سے ہاتھ بھی دھو سکتے ہیں۔

ایک اہم پیشرفت لاہور میں بھی ہوئی ہے جہاں تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان نے چودھری شجاعت حسین سے بھی ملاقات کی ہے جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیا کیا گیا ہے

ذرائع کے مطابق ملاقات میں آئندہ بننے والی حکومت کی صورت میں عبدالعلیم خان نے اپنے حصے کامطالبہ کیا ہے۔

اگر قومی اسمبلی کی نشستوں پر نظر دوڑائی جائے تو حزب اقتدار جماعت تحریک انصاف کے پاس اس وقت 156 نشستیں موجود ہیں۔

مسلم لیگ ن کے پاس 84، پیپلزپارٹی کے پاس 55، متحدہ مجلس عمل کےپاس 16 ارکان موجود ہیں ایم کیو ایم پاکستان 7، بلوچستان عوام پارٹی 5، بلوچستان نیشنل پارٹی 4 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی تین سیٹیں ہیں
مسلم لیگ ق کے پاس 5 سیٹیں ہیں۔ آزاد ارکان کی تعداد چار ہے، عوامی نشینل پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کی ایک ایک سیٹ ہے۔

x

Check Also

آرمی چیف کی دوسری مدت سے دو دن پہلے فوج میں اہم تبدیلیاں

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دوسرے دور ملازمت شروع ہونے ...

%d bloggers like this: