عوام کا فیصلہ آچکا، جنہیں سنانا چاہ رہے ہیں وہ بھی سن لیں

عوام کا فیصلہ آچکا، جنہیں سنانا چاہ رہے ہیں وہ بھی سن لیں

مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو استعفے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ۔ آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں کہا کہ استعفے کے لیے دو دن دے رہے ہیں،صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ عوام کا سمندر یہ طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہائوس جا کر گرفتار کر لے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گورباچوف کو ناکامی کا اعتراف کرکے ریاست کی حاکمیت سے دستبردار ہونا ہوگا ، عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی مزید اجازت نہيں دے سکتے۔

آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ استعفا دے دیں، ورنہ پھر ہم نے اس سے آگے فیصلے کرنے ہیں، ہمارے اس امن کا احترام کیا جائے، مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے ، مہنگائی نے گھر کر لیا ہے، مائیں اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہیں ، رکشے والے اپنے رکشے جلارہے ہیں ہم قوم کو ان نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مزدوروں ، غریبوں اور کسانوں کے ساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دےسکتے، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی گئی تھی مگر پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کے گھر گرادیئے گئے ہیں۔

فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خا ن نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا ، مگر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ لوگ باہر سے نوکریاں کرنے کے لیے آئے ہیں مگر باہر سے صرف دو لوگ نوکری کرنے آئے ہیں انہیں بھی آئی ایم ایف نے بھیجا ہے۔

سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کو بنائیں گے، روح قائداعظم پوچھ رہی ہے میر ا پاکستان کہاں ہے۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد مسلمانوں کی مدد کے لیے رکھی گئی تھی قائد اعظم نے 1948 میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی تھی اور مسلمانوں کے لیے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی بنائی گئی تھی ، مگر آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کچھ اور ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے ، مذہبی کارڈ پاکستان کے آئین میں موجود ہے آپ کون ہوتے ہیں ہمیں مذہب کی بات سے روکنے والے، اسلام ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان کے ساتھ اسلام ہے۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کرپٹ اور چوروں کے خلاف لڑرہے ہیں مگر ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔

سر براہ جے یوآئی نے کہا کہ عمران خان تم چوروں کے سردار بنے ہوئے ہو ، دوسروں کو آئینہ دکھانے والوں اپنی شکل آئینے میں دیکھ لو ، آج پاکستان کا سب سے بڑا آزادی مارچ نکلا ہوا ہے مگر میڈیا پر پابندی لگائی ہوئی ہے ہمارے مارچ کے دکھانے پر ۔

انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں اور میڈیا پرسن و مالکان کے ساتھ میری ہمدردیاں موجود ہیں ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھالی جائے اگر پابندی نہیں اٹھائی تو پھر ہم بھی کسی چیز کے پابند نہیں رہیں گے ۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ آج کشمیر یوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ، موجودہ حکمرانوں نے کشمیریوں کو مودی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں کے لیے لڑیں گے ، ان کی خود مختاری اور آزادی کے لیے پاکستانی عوام لڑیں گے ۔

فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اگر ہمیں تنگ کیا گیا تو یہ اتنا بڑا مجمع اتنی قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو اس کے گھر جاکر گرفتار کرسکتا ہے ۔

سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے ، ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، ہم اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر ہم اداروں کو بھی غیر جانب دار دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  آج استادوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے، خواتین اساتذہ کے منہ پر تھپڑ مارے جارہے ہیں۔

پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں، بلاول

اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ الیکشن 2018 میں فوج کو پولنگ اسٹیشن میں کھڑا کرکے انتخابات کو متنازعہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر ایک سابق صدر آصف علی زردای کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کی مرضی سے اقتدار میں نہیں آئے وہ کسی اور کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ عمران خان نے ایک سال میں عوام کا معاشی قتل کر دیا ہے، ان کی معاشی پالیسیوں میں غریب عوام کو تکلیف اور امیروں کو ریلیف مل رہا ہے، عوام کے لیے مہنگائی کا سونامی ہے جبکہ امیروں کے لیے بیل آئوٹ پیکجز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کٹھ پتلی وزیر اعظم کے دور میں کشمیر پر تاریخی حملہ ہورہا ہے اور ہمارا وزیر اعظم قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پوچھتا ہے کہ میں کیا کروں، وزیر اعظم کشمیر کے لیے صرف تقاریر اور ٹوئٹ کرتا ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ طلبہ مزدوروں کسانوں، تاجروں اور سیاستدانوںسمیت آج پورے پاکستان کا نعرہ گو سلیکٹڈ گو، بن چکا ہے۔

اسلام آباد میں جاری جمعیت علمائے اسلام ف اور اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں۔

اس سے قبل مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ تبدیلی پہلے نہیں آئی تھی، اب آئی ہے۔

 آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عوامی سمندر پی ٹی آئی کے سلیکٹڈ وزیرِ اعظم عمران خان کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا، اس عظیم الشان آزادی مارچ کو لیڈ کرنے پر مولانا فضل الرحمٰن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہاں لاکھوں لوگ موجود ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کا مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں نکلنے والا آزادی مارچ اسلام آباد میں موجود ہے۔

پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے بعد مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف بھی جلسہ گاہ پہنچے، سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمٰن نے ان کا استقبال کیا۔

 جلسہ گاہ میں آزادی مارچ کے شرکاء نے مولانا فضل الرحمٰن کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی، جس کےبعد جلسے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی آپ نے کنٹینر کی سیاست شروع کی تھی، آج تمہاری کنٹینر کی سیاست یہاں پر دفن ہو رہی ہے، میرے قائد نواز شریف کی قیادت میں اسپتالوں میں مفت دوائیں غریب اور نادار لوگوں کو ملتی تھیں، آج ان سے دوائیاں چھین لی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال 50 ہزا لوگ ڈینگی وائرس سے بیمار ہوئے، سیکڑوں انتقال کر گئے، عمران نیازی کہیں نظر نہیں آیا، آج روزگار، کاروبار ختم ہو گیا، روٹی دو روپے سے پندرہ روپے پر پہنچ گئی، سوا سال میں عوام کی چیخیں نکل گئیں، آج دن آگیا ہے کہ عمران خان کی چیخیں نکل جائیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ ہمیں اس جعلی حکومت سے جان چھڑانی چاہیے،جب تک عمران نیازی سے پاکستان کی جان نہیں چھوٹتی، ہم ان کی جان نہیں چھوڑیں گے، آج مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے، عمران خان مغرور ہیں، ان کا بھیجا خالی ہے، عمران خان جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں۔

شہباز شریف سے قبل محمود خان اچکزئی نے بھی جلسے سے خطاب کیا، مولانا فضل الرحمٰن بعد میں خطاب کریں گے۔

ملک بھر سے جمعیت علمائے اسلام ف کے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، گرفتاری سے رہائی ملنے کے بعد جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللّٰہ بھی کارکنوں کے ہمراہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں

x

Check Also

آٹا سستا، ایرانی ٹماٹر بھی پہنچ گئے

اپریل سے لے کر 12 نومبر تک آٹے کی مختلف ورائٹی کی قیمتوں میں 15 ...

%d bloggers like this: