سدھو نے کرتارپور کی افتتاحی تقریب میں پاکستان آنے کی دعوت قبول کرلی

سدھو نے پاکستان آنے کی دعوت قبول کرلی

وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کے افتتاح میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی۔

وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر سینیٹر فیصل جاوید نے سابق بھارتی کرکٹر و سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو سے رابطہ کیا اور 9 نومبر کو منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ 

نوجوت سنگھ سدھو نے سینیٹر فیصل جاوید کے ذریعے بھجوائی جانے والی وزیراعظم عمران خان کی خصوصی دعوت قبول کرلی اور کہاکہ تاریخی تقریب میں مدعو کرنے پر وزیراعظم پاکستان کا شکرگزار ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے سکھ اپنے روحانی پیشوا باباگرونانک سے وابستہ مقام کی زیارت کے منتظر ہیں،کرتار پور کی تعمیر اور اس کے افتتاح نے سکھ مذہب کے کروڑوں پیروکاروں کو نہایت مثبت پیغام دیا ہے۔

نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ 9 نومبر کی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل کروں گا۔ 

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح 9 نومبر کو کریں گے جس میں بھارت سے بھی کئی اہم شخصیات شرکت کریں گی۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپورراہداری منصوبے کا سنگ بنیاد 28 نومبر 2018ء کو رکھا تھا، تقریباً ایک سال میں دربار صاحب سے پاک بھارت سرحد تک ساڑھے چار کلو میٹر لمبی سڑک اور دریائے راوی پر پلُ کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے۔

کرتار پور کہاں واقع ہے؟

کرتارپور گوردوارہ ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں واقع ہے جو بھارتی سرحد سے کچھ دوری پر ہے، گوردوارہ دربار صاحب 1539 میں قائم کیا گیا۔

بابا گرونانک نے وفات سے قبل 18 برس اس جگہ قیام کیا اور گرونانک کا انتقال بھی کرتارپور میں اسی جگہ پر ہوا۔

کرتار پور کی تاریخی اہمیت

لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر کی مسافت پر ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے ایک بستی ہے جسے کرتارپور کہا جاتا ہے، یہ وہ بستی ہے جسے بابا گرونانک نے 1521ء میں بسایا اور یہ گاؤں پاک بھارت سرحد سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

نارووال شکر گڑھ روڈ سے کچے راستے پر اتریں تو گوردوارہ کرتار پور کا سفید گنبد نظر آنے لگتا ہے، یہ گوردوارہ مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 سے 1929 کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔

گرو نانک مہاراج نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں بسر کیے اور اُن کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرتارپور سکھوں کے لیے مقدس مقام ہے۔

x

Check Also

طالبان قیدیوں کا غیر ملکی پروفیسرز کے ساتھ تبادلہ مؤخر

افغان حکومت کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ 2 مغربی مغویوں کا 3 طالبان قیدیوں ...

%d bloggers like this: