نواز شریف کی زندگی کو سب سے بڑا خطرہ

نواز شریف کی حالت نازک، عدالت میں رپورٹ جمع

اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست پر نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ جمع کرا دی گئی۔

میڈیکل بورڈ نے سر بمہر لفافے میں نئی رپورٹ پیش کردی۔عدالت نے کہا کہ یہ بند لفافے میں کیوں ہے۔ کھول کے دیتے تا کہ سب کو لگے۔

ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بتایا کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ کی ساتویں میٹنگ ہوئی جس میں ڈاکٹرعدنان بھی شامل تھے۔

بورڈ کا موقف ہے کہ مریض کو دل کی بیماری سگر ہے۔ مریض کی موجودہ حالات کریٹیکل ہے۔ایم ایس سروسز ہسپتال نے بتایا کہ نواز شریف کو ایک سے زیادہ بیماریاں ہیں، نواز شریف کے پلیٹ لٹس 30 ہزار تھے، نواز شریف کے پلیٹ لٹس بن رہے ہیں لیکن ساتھ تباہ بھی ہو جاتے ہیں۔

تیس ہزار پلیٹ لٹس کم ہوتے ہیں یا زیادہ؟ جسٹس عامرفاروق کے استفسار پر ایم ایس نے بتایا کہ 30 ہزار پلیٹ لٹس کم ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق نواز شریف کو ہارٹ اٹیک ہوا، بیلنس برقرار نہیں ہو رہا، ایک چیز کو کنٹرول کرتے ہیں تو دوسری بڑھ جاتی ہے، پلیٹ لٹس 50 ہزار تک بڑھائے تو ہارٹ اٹیک ہوگیا۔

جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ کیا نواز شریف اس وقت ہسپتال کے بغیر رہ سکتے ہیں؟۔ تو ایم ایس نے جواب دیا کہ بالکل بھی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک ہونے کی وجہ سے نواز شریف کے پلیٹ لٹس دوبارہ گرا کر 30 ہزار کرنا پڑے، سروسز ہسپتال کے ڈاکٹرز پوری کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف کی طبیعت بہتر ہو۔

عدالت کے طلب کرنے پر نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان روسٹرم پر آئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حالت بہت تشویشناک ہے، نواز شریف کے پلیٹ لٹس بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن وہ بڑھ نہیں رہے۔

نواز شریف کو دل کا دورہ بھی پڑ چکا ہے، نواز شریف کی جان کو ابھی تک شدید خطرہ ہے۔ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ نواز شریف کے پلیٹ لٹس کیوں کم ہوئے، جب تک بیماری کا پتہ نہ چل جائے علاج نہیں ہو سکتا، ہومیوگلوبن سے نواز شریف کا بلڈپریشر اور بلڈشوگر بڑھ گیا۔

نواز شریف کو دل، گردے اور دیگر پیچیدہ بیماریاں ہیں، نواز شریف ہسپتال میں بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 24 اور 25 اکتوبر کی درمیانی رات نواز شریف کو ہارٹ اٹیک ہوا، رپورٹ میں کہا گیا کہ سینے میں درد ہوا لیکن وہ ہارٹ اٹیک تھا۔

نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کو مصنوعی طریقے سے بڑھایا جا رہا ہے، اس صورتحال میں نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے۔

پلیٹ لیٹس بڑھانے کے دوران ہارٹ اٹیک ہوا۔ سٹیرائڈ لگانے سے ہارٹ اٹیک کے چانس بڑھ جاتے ہیں۔ 26 اکتوبر کی میڈیکل رپورٹ میں کارڈیک اٹیک کا ایک موقف رکھا ہے۔

مسلسل میڈیکل بورڈ کی جانب سے غفلت کی جا رہی ہے۔میڈیکل بورڈ پر شک نہیں کرتے لیکن ان سے مریض ٹھیک نہیں ہو رہا ہے ۔نتیجہ وہ نہیں آرہا جو آنا چاہیئے۔

سرسز ہسپتال میں کارڈیک یونٹ نہیں۔ سروسز ہسپتال میں تمام وہ سہولیات نہیں جو ایک چھت تلے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے دل کا ایک پمپ کام نہیں کر رہا، کریٹی لائن کی وجہ سے گردوں پر اثر پڑ رہا ہے، وہ موقع کب آئے گا جب مریض سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیسا علاج؟ کہاں سے کرانا چاہتا ہے؟۔

آپ نے سات سال سزا دی ہے اگر بندہ ہی نہیں رہے گا تو سزا کس کام کی۔ سزائے موت کے قیدی کو بھی ریلیف ملتا ہے۔ مریض کو اپنی مرضی کا علاج کرانے اور ٹینشن سے پاک ماحول دیا جائے۔ یہ کیس ہارڈ شپ کا نہیں، میڈیکل گراؤنڈز کا ہے۔

ہمارے پاس سپریم کورٹ کی ہارڈشپ کیسز میں ضمانت دینے کی مثالیں موجود ہیں، اس سے زیادہ ہارڈشپ کا کیس کیا ہو گا۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ دو ہزار پلیٹ لیٹس اور ہارٹ اٹیک میں نواز شریف بچ کیسے گئے؟۔

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ اگر نواز شریف کو ضمانت پر بری کیا جاتا ہے اور وہ دو تین مہینے میں صحت مند ہو جائیں تو پھر کیا طریقہ کار ہو گا؟۔ کون فیصلہ کرے گا کہ واپس جیل بھیجا جائے۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اگر نواز شریف کی صحت بہتر ہو جاتی ہے تو نیب کے پاس اختیار ہے کہ ضمانت منسوخی کی درخواست دے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں ریاست ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست دے سکتی ہے۔

یہاں یہ خود کہتے ہیں بیماریاں اتنی جلدی ٹھیک نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے مریض ساری عمر دوائیاں لیتا رہے۔

عدالت نے پوچھا کہ اگر مریض 20 سال تک زندہ رہےلیکن کہے کہ ٹھیک نہیں ہوا تو قانون کیا کہتا ہے؟۔ جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ ایگزیکٹو کے پاس اختیارات ہیں کہ قیدی کی سزا ختم کرے یا پیرول پر رہا کرے؟۔ خواجہ حارث نے کہا کہ سی آر پی سی کے قانون کی شق 401کے تحت ایگزیکٹو سزا ختم یا پیرول پر رہا کر سکتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ جوڈیشل ریویو کے تحت فیصلے کا جائزہ لے جو 401 کے تحت لیا گیا۔ خواجہ حارث نے کہا سی آر پی سی کے قانون کی شق کے تحت سزا معطل کی جاسکتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ آپ کی جانب سے گزشتہ سماعت پر ڈاکٹرز کی تعریف کی گئی اس پر خواجہ حارث نے کہا اب نواز شریف کی طبیعت بہتر نہیں ہو رہی۔ بہتر ٹیکنالوجی اور ہسپتال کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب آئے ہیں؟۔

عثمان بزدار کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے جب بھی بلایا وزیر اعلی پیش ہوئے ہیں، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ے وزیر اعلیٰ پنجاب کو جیل میں قیدیوں سے متعلق جاننے کے لئے بلایا ہے۔

قانون کی شقیں ہیں جس میں مریض قیدی کا خیال رکھا جانا چاہیے، کچھ چیزیں ہیں جو صرف پنجاب نہیں تمام صوبوں کے لئےتوجہ طلب ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہم ان کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے کی تعریف کرتے ہیں۔ جسٹس عامر نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کی طبی حالات پر وفاق سے بھی رپورٹ طلب کی تھی۔

جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ ان قیدیوں کی کیا حالات ہوں گے جو کینسر اور ٹی بی جیسے دیگر امراض کا شکار ہیں۔ وزیر اعلی کے پاس بہت سے اختیارات ہیں۔

ایک صوبے کے ایگزیکٹو کے طور پر ہدایات جاری کریں کہ وہ ان قیدیوں کے بارے میں کچھ کریں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا عثمان بزدار صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں ان کے پاس اختیارات ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار روسٹرم پر آئے تو کہا کہ میں خود بھی وکیل ہوں۔ جہاں بھی جاتا ہوں جیلوں کا وزٹ کرتا ہوں۔ میں پہلا وزیر اعلی ہوں جس نے 8 جیلوں کا وزٹ کیا۔

مریض قیدیوں سے متعلق بھی ہماری بھرپور توجہ ہے، ہم جیل ریفارمز کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کیس ہم سے متعلقہ نہیں ہے، نواز شریف نیب کے ملزم اور صرف ہماری حراست میں ہیں۔ پنجاب حکومت نے نواز شریف کا خیال رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے۔

ہم ایک پیکج لا رہے ہیں جس میں چیزیں دنوں میں گراونڈ پر آئیں گی، جیل کبھی بھی ہماری ترجیح نہیں رہی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں پہلا وزیر اعلی ہوں جو جیل میں جا رہا ہوں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جیلوں میں نہیں بلکہ جیلوں کا وزٹ کرنے جا رہے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے

x

Check Also

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے بانڈ کی حکومتی شرط ختم کر دی

جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی جس ...

%d bloggers like this: