پنجاب میں ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار

پنجاب میں ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں ۔

گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےچوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے مرض میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ پینے کا گندا پانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2020 تک پنجاب کے 2 کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کریں گے،پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 2 ہفتے پہلے ایک شہر کے 60 فیصد لوگ ہیپاٹائٹس کے مریض پائے گئے۔

گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا چلنج یہ ہےکہ ہماری درآمدات، برآمدات سے 3 ارب  ڈالر زیادہ ہے، کوئی ہمارے خلاف لکھے تو ہم اسے مخالف سمجھتے ہیں ہمیں اس سوچ کو بھی بدلنا ہوگا۔

واضح رہے کہ 11 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں ایک کروڑ لوگوں کا ہیپاٹائٹس جیسے مرض سے متاثر ہونا سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

رواں سال اپریل کے مہینے میں بھی پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے حوالے سے ہونے والے ایک سروے میں پنجاب کی 8 اعشاریہ 9 فیصد آبادی کے ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہیپاٹائٹس کی علامات میں بھوک نہ لگنا، اسہال، تھکاوٹ، جِلد اور آنکھوں میں پیلاہٹ اور پٹھوں، جوڑوں و معدے میں درد شامل ہے، دیہی علاقوں کے لوگ ہیپا ٹائٹس میں زیادہ مبتلا ہورہے ہیں۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج کیلئے اتائیوں کے پاس جانے والے اوراسپتالوں میں دیر سے آنے والے ہیپاٹائٹس کے مریض مصیبت میں پڑ سکتے ہیں، اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

ہیپاٹائٹئس کی روک تھام کیلئے ڈسپوزایبل سرنج کا استعمال لازم ہے جبکہ محفوظ خون کی منتقلی نہ ہونے سے بھی ہیپاٹائٹس سی زیادہ پھیل رہا ہے۔

x

Check Also

اسموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

اسموگ سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

سردیوں کے آتے ہی پنجاب کے مختلف شہروں خصوصاً لاہور اور گردونواح کے علاقوں میں ...

%d bloggers like this: